67 ہزار کروڑ روپئے کے خرچ کے باوجود حالات جوں کے توں برقرار
حیدرآباد۔5ستمبر ( سیاست نیوز ) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بارش کے سبب سڑکوں پر پانی کے بہاؤ نے ایک مرتبہ پھر سے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے سال گذشتہ کی بارش سے قبل یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے 67ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں اور گذشتہ سال اکٹوبر میں ہوئی بارش کے بعد 857 کروڑ کے خرچ سے پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے علاوہ نالوں کی توسیع وصفائی کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا ۔ملک پیٹ میں گذشتہ یوم بارش کے سبب علاقہ کی سڑکوں پر بہنے والے پانی اور عوام کو ہونے والی مشکلات نے یہ واضح کردیا کہ اس علاقہ کی ترقی کس طرح ہورہی ہے۔ عثمان نگر کے علاقہ میں جہاں گذشتہ ایک برس سے کئی مکان زیر آب ہیں اور اب تک پانی کی نکاسی عمل میں نہیں لائی گئی تھی اس علاقہ میں دوبارہ پانی جمع ہونے لگا ہے۔ اسی طرح یاقوت پورہ ریلوے اسٹیشن کے قریب نالہ کے ابل پڑنے اور نالہ کی صفائی کے عمل کے جاری رہنے سے یہ واضح ہورہا ہے کہ کس طرح سے نالوں کی صفائی کے کام انجام دیئے جا رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے سال گذشتہ کی بارش کے بعد کئی ایک اقدامات کے اعلانات کئے تھے جن میں نالوں پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی کے علاوہ تالابوں اور کنٹوں پر کئے گئے قبضوں کو برخواست کروانے کے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں مختلف محکمہ جات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومت اس کمیٹی کی سفارشات پر آئندہ موسم باراں سے قبل عمل آوری کو یقینی بنائے گی لیکن اب تک اس سلسلہ میں کوئی کاروائی انجام نہیں دی گئی ۔ M