نئی دہلی،یکم اکتوبر (یو این آئی) کانگریس قائد راہول گاندھی نے مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں آدیواسی خاندانوں سے ملاقات کے بعد ریاستی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے اور کہا کہ یہاں آ کر ایسا لگا، جیسے ہندوستان کے درمیان میں ہی ہندوستان کی حکومت نہیں ہے ۔علاقہ میں کئی بچوں کی موت غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن متاثرہ خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مناسب مدد نہیں مل رہی ہے ۔ یہاں لوگوں کے سامنے زمین، فارسٹ رائٹس ایکٹ (حقوقِ جنگلات قانون) اور منریگا سے جڑے سنگین مسائل ہیں۔ کئی خاندانوں نے اپنے بچے کھو دیے لیکن ان کے مطابق ابھی بھی آدھے لوگوں کو معاوضہ نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے اپنی ذمہ داری نبھانے اور بالاگھاٹ کے لوگوں کو اسکول، ہاسپٹل نیز دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت 24 گھنٹے ترقی کی بات کرتی ہے لیکن ذمہ داری نبھانے کے وقت غائب ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں دو اسکیمیں چل رہی ہیں تو لوگوں کو دونوں کا فائدہ ملنا چاہیے لیکن ایک اسکیم کا فائدہ دے کر دوسری اسکیم سے ان کا نام کاٹ دیا جاتا ہے ۔ راہول نے کہا کہ بالاگھاٹ کی صورتحال دیکھ کر انہیں کافی دکھ ہوا ہے ۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے کہا ہیکہ کانگریس حکومت میں آنے پر ان کی مدد کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم انہیں ون واسی نہیں، آدیواسی کہتے ہیں اور یہ ہندوستان کے پہلے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آدیواسیوں کو ملک میں باعزت جگہ اور ضروری سہولیات ملنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالاگھاٹ میں آدیواسی بچوں کی موت کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے اور ملک بھر میں آدیواسیوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کا سوال بھی اٹھائیں گے۔
انہوں نے بالاگھاٹ کی صورتحال کو مدھیہ پردیش حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ بچوں کی اموات کی تعداد اور وجوہات کو لیکر سرکاری تحقیقات میں اگرچہ مختلف طبی وجوہات سامنے آئی ہیں اور کسی ایک بیماری کو تمام اموات کی واحد وجہ نہیں بتایا گیا ہے ۔