نفرت انگیز تقاریر و اشتعال انگیزی کیخلاف بل پیش کرنے جناب عامر علی خاں کا مطالبہ
حیدرآباد۔18۔مارچ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست کی اقلیتوں سے کئے گئے سب پلان کے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے انہیں بجٹ میں ہونے والے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرے۔ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کو یقینی بنانے کے لئے نفرت انگیز تقاریر و اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین کیلئے حسب وعدہ بجٹ سیشن میں بل پیش کیا جائے ۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’سیاست‘ نے ریاستی اسمبلی کے جاریہ بجٹ اجلاس کے دوران اقلیتوں کے لئے سب پلان کی منظوری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں کے لئے بجٹ میں اضافہ کا اعلان کیا گیا تھا اور گذشتہ بجٹ کے دوران ریاستی حکومت نے کئے گئے وعدہ کے مطابق بجٹ میں قابل لحاظ اضافہ بھی کیا لیکن اگر مالی سال 2025-2026 کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے خرچ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے مختص کردہ 3591 کروڑ میں محض 1591 کروڑ ہی خرچ کئے ہیں اور گذشتہ کئی برسوں سے ایسی ہی صورتحال کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود میں ناکافی بجٹ اخراجات کے نتیجہ میں ریاست کے اقلیتوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی نے جو اقلیتی اعلامیہ جاری کیا تھا اس میں اقلیتوں کے لئے ’’سب پلان‘‘ کا بھی وعدہ کیاگیا تھا اور اب گذشتہ تین برسوں کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کے اخراجات کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کو فوری طور پر اپنے وعدہ کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کرتے ہوئے ’’سب پلان‘‘ کو منظوری دینی چاہئے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’سیاست ‘ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ اقلیتوں کیلئے فوری طور پر اگر سب پلان کی منظوری عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مختص کردہ بجٹ جو خرچ نہیں ہوسکا وہ ذیلی منصوبہ کے تحت جمع ہوتا رہے گا اور آئندہ سال بھی اسے قابل استعمال رکھا جاسکتا ہے جبکہ موجودہ حالات میں غیر مستعملہ بجٹ واپس ہوجاتا ہے ۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس کی حکومت کی جانب سے روشناس کروائے گئے انسداد زہرافشانی و نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون سازی کا جو وعدہ کیاگیا تھا اسے پورا کیا جائے ۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کیلئے یہ ضروری ہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ’’کرسمس ڈنر‘‘ کے دوران اپنے خطاب میں جو اعلان کیا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے بجٹ سیشن میں ہی اس بل کو پیش کرے ۔جناب عامر علی خان نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کو امن و سکون سے رہنے اور ان کی جائیدادوں بالخصوص عبادتگاہوں کے تحفظ کے لئے کرناٹککی طرز پر تلنگانہ میں بھی قانون کی شدید ضرورت محسوس کی جار ہی ہے علاوہ ازیں ریاست کے اقلیتوں کی ہمہ جہت ترقی اور دیگر طبقات کے مساوی حقوق کے لئے ان کے بجٹ میں قابل لحاظ اضافہ کے ساتھ ساتھ 2023 اسمبلی انتخابات سے قبل کئے گئے سب پلان کے وعدہ کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔3