بجٹ بڑے مسائل حل کرے گا، برسر اقتدار پارٹی کا دعویٰ

   

بہار کو خصوصی پیاکیج تو مہاراشٹرا کو کیوں نظرانداز کیا گیا، مباحث میں اپوزیشن کا سوال
نئی دہلی: منگل کو عام بجٹ 2024-25 پر لوک سبھا میں جاری بحث کا آغاز کرتے ہوئے دیویندر سنگھ عرف بھلے سنگھ نے کہا کہ یہ بجٹ ملک کو اہم وسائل فراہم کرنے والا ہے ۔ سنگھ نے کہا کہ بجٹ میں اس طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں جس سے بیروزگاروں کو روزگار ملے گا اور ہر شعبے میں خواتین کی شرکت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں آرگینک کاشتکاری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل آئین کے حوالے سے بہت بحث ہو رہی ہے لیکن کچھ جماعتیں جو ایمرجنسی کا شکار رہی ہیں، آج اسی جماعت کے ساتھ بیٹھی ہیں جس کی حکومت نے 1975میں آئین کا گلا گھونٹ کر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔بی جے پی کے ڈاکٹر کے سدھاکر نے کہا کہ یہ بجٹ ایک متوازن بجٹ ہے ، اس میں ایسے انتظامات کئے گئے ہیں جو ترقی یافتہ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی کے خواب کو پورا کریں گے ۔ بجٹ تمام طبقات کے لئے ہے ، یہ ملک کو ترقی کی طرف لے جائے گا۔کانگریس کی دھنیرکر پرتیما سریش نے کہا کہ اگر بجٹ میں بہار کو خصوصی پیکیج دیا گیا ہے تو مہاراشٹرا کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ اس بحران پر قابو پانے کے لئے بجٹ میں کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ کیا مہاراشٹرا کے لوگ ملک کے عوام نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کھادوں اور بیجوں پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس لگانا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی اہلیت کم داخلہ ٹسٹ (یو جی این ای ای ٹی) جیسے امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہو رہے ہیں، ملک میں منا بھائی ایم بی بی ایس جیسے ڈاکٹر بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرائی جا رہی ہے اور ریاست میں ریزرویشن کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے ۔