بی جے پی قائدین معلومات سے عاری، دستور پر راجہ سنگھ کا بیان لطیفہ سے کم نہیں، گزشتہ سیشن کا بجٹ سیشن تسلسل ہے
حیدرآباد۔یکم مارچ، ( سیاست نیوز) وزیر اُمور مقننہ وی پرشانت ریڈی نے کہا کہ بجٹ اجلاس کا گورنر کے خطبہ سے آغاز کا دستور میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت نے دستور کے مطابق ہی بجٹ اجلاس طلب کیا ہے اور دستور کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے بجٹ اجلاس سے قبل گورنر کا خطبہ نہ رکھنے پر بی جے پی کی تنقیدوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس ابھی تک جمہوریت کے مطابق منعقد کیا گیا اور آئندہ بھی جمہوری اور دستوری اصولوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ زیادہ عوامی مسائل پر مباحث کو یقینی بنانے کیلئے برسراقتدار پارٹی سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں کو وقت دیا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کبھی بھی اپوزیشن کو زیادہ وقت دینے کا رواج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ گورنر کے خطبہ کے ذریعہ ریاست کی ترقی کی تفصیلات پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن تکنیکی وجوہات کے سبب مجوزہ بجٹ اجلاس میں گورنر کا خطبہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ کے بغیر اسمبلی اجلاس کے انعقاد کی سابق میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ 1970 ، 1971 اور 2013 میں گورنر کے خطبہ کے بغیر ہی اجلاس شروع کیا گیا۔ ڈسمبر 2003 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے صدر جمہوریہ کا خطاب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 2004 میں ایک درخواست کو مسترد کردیا جس میں اسمبلی اور پارلیمنٹ کے غیر معینہ مدت کیلئے التواء کے بغیر گورنر اور صدر جمہوریہ کے خطبہ کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر معلومات کی کمی کے نتیجہ میں بیان بازی کی جارہی ہے جو اجلاس ملتوی نہیں ہوا اس سے خطاب کیلئے گورنر کو مدعو کرنا غلطی ہوگی۔ دستور میں اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے کہ بجٹ سیشن کا گورنر کے خطبہ سے آغاز ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ کیلنڈر سال میں آٹھواں سیشن غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ( پروروگ) نہیں ہوا لہذا بجٹ اجلاس آٹھویں سیشن کا تسلسل ہے۔ انہوں نے راجہ سنگھ کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور ریمارک کیا کہ دستور کے بارے میں راجہ سنگھ کا اظہار خیال باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب راجہ سنگھ ہمیں دستور سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ سنگھ کا دستور کے بارے میں بیان دینا لطیفہ سے کم نہیں ہے اور انہیں جواب دینے کیلئے میں خود کو قابل نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ گریجن یونیورسٹی کے قیام میں ناکام بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایس باپو راؤ بھی دستور پر تبصرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سمکا سارالماں جاترا کیلئے مرکز نے 2 کروڑ روپئے منظور کئے جبکہ کے سی آر حکومت نے 400 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ پرشانت ریڈی نے کہا کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی کے نزدیک دستور کا کوئی احترام نہیں ہے۔ دستور کے مطابق تشکیل دیئے گئے تلنگانہ پر وزیر اعظم سوال اٹھارہے ہیں۔ مرکزی حکومت تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلگو ریاستوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ان کی آج تک تکمیل نہیں ہوئی ہے ۔ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری اور ملگو میں ٹرائیبل یونیورسٹی کے قیام کے لیے چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے بارہا نمائندگی کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوئی ۔ر