ملک میں بگڑی ہوئی معیشت کو درست کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں : جوگورمنا
عادل آباد۔ 7؍ جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی وزیر فینانس شریمتی نرملا سیتارامن کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو ’’ پرانی بوتل میں نئی شراب‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے عادل آباد رکن اسمبلی مسٹر جوگورامنا نے کہاکہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کو درست کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ موصوف اپنی قیام گاہ پر میڈیا سے مخاطب ہو کر مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سابق عادل آباد رکن لوک سبھا کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے عادل آباد میں بس اسٹانڈ کے قریب سے گذرنے والی ریلوے لین پر اوور برج اور ریلوے اسٹیشن کے قریب فٹ اوور برج تعمیر کامطالبہ کیا گیا جس کو بھی اس بجٹ میں یکسر نظرانداز کیا گیا ۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں اکثر پائی جانے والی خشک سالی سے نمٹنے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا ۔ عوام پر بوجھ ڈالنے کی غرض سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بناء پر روزہ مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء ما یحتاج کی قیمتوں میں اضافہ پایا جا رہا ہے ۔ قبائیلی طبقہ کے ساتھ ناانصافی کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر جو گورامنا نے کہاکہ ضلع عادل آباد کے قبائلی علاقہ میں قبائیلی طلبا اور طالبات کی سہولت کی خاطر ٹرایبل یونیورسٹی کے قیام کو بھی محروم رکھا گیا ۔ سب کا ساتھ سب وکاس کا نعرہ بلند کرنے والی مرکزی حکومت مشین بھاگیرتا اور مشن کاکتیہ کے تعمیراتی کاموں میں 24 ہزار کروڑ روپئے ادا کرنا ہے جس کو ادا کرنے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ کالیشورم ‘ پولاورم پراجکٹ میں کسی ایک پراجکٹ کو قومی درجہ نہ دینے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مقامی رکن اسمبلی نے ریلوے بجٹ پر اپنی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے ہر متوسط غریب افراد کے لئے حمل و نقل کا اطمینان بخش ذریعہ تصور کیا جاتا ہے جس کو عام بجٹ میں شامل کر کے ریلوے بجٹ میں ناانصافی کی گئی ۔ انڈین ریلوے کو دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک قرار دیتے ہوئے اس کے ذریعہ 8.105 بلین مسافرین سالانہ اپنی مسافت جہاں ایک طرف طے کرتے ہیں وہیں دوسری طرف اس ریلوے کے ذریعہ 1.108 بلین ٹن اشیاء کو ایک مقام سے سے دوسرے مقام کو منتقل کرنے کا واحد ذریعہ قرار دیا ۔ عام بجٹ سے ریلوے بجٹ کو علحدہ کرتے ہوئے آئندہ مالیاتی سال میں ریلوے بجٹ بالکل علحدہ پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔
