ملک کو 1929 کے عظیم انحطاط‘ 2008 کے سنگین عالمی معاشی بحران سے بدترین حالات کا سامنا ‘ وزیراعظم کو چیف منسٹر کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 12 ؍ اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے آنے والی معاشی سست روی و کساد بازاری سے ٹمنٹے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی سے 10.15 لاکھ کروڑ روپئے کی بہ اعتبار مقدار راحت کا اعلان کرنے کی درخواست کی ہے ۔ چندشیکھرراؤ نے کہا کہ لاک ڈاون سے معیشت درہم برہم ہوگئی ہے ‘ جس کے باوجود اس (لاک ڈاون) میں مزید 15 دن یعنی 30 ؍ اپریل تک توسیع کی ضرورت پیش آئی ہے ۔ کیونکہ معاشی سرگرمیاں تو بعد میں کسی بھی وقت بحال کی جاسکتی ہیں لیکن انسانی جان کو ایک مرتبہ چلے جانے کے بعد دوبارہ واپس نہیں لایا جاسکتا ۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم کے نام اپنے مکتوب میں تجویز پیش کی کہ بہ اعتبار مقدار راحت کے ذریعہ ہی اقتصادی سست روی و کساد بازاری کا مقابلہ کیا جائے ۔ چندرشیکھرراؤ نے اپنے مکتوب میں مزید کہا کہ مقدار پر مبنی راحت ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار کا کم سے کم پانچ فیصد حصہ پر مشتمل رقم ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی دفتر اعداد کے مطابق 2019-20 میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار 203.35 لاکھ کروڑ روپئے تھی جس کاپانچ فیصد حصہ 10.15 لاکھ کروڑ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے سنٹرل بینکس یہی انداز فکر اور طرز عمل اختیار کر رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دنیا بھر میں 2008 کے معاشی بحران اور 1929 کے عظیم انحطاط و بحران سے عالمی کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کے لئے سنٹرل بینکس کئی جرتمندانہ اقدامات کئے ہیں ۔ کے سی آر نے گذشتہ شب پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ چیف منسٹر کے ساتھ وزیراعظم کی ویڈیو کانفرنس کے دوران وہ انہیں اپنے ان مطالبات سے واقف کرواچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غیررسمی تجارتی شعبہ ‘ صنعتی مزدوروں و محنت کشوں ‘ کسانوں اور غریبوں کے بشمول تمام شعبوں کی مدد کے لئے مقدار پر مبنی راحت درکار ہے ۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ ریاستوں کی آمدنی 400 کروڑ روپئے کے تناسب ماہانہ آمدنی کے بہ نسبت اب صفر ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ میں اپریل 2020 کے دوران اصل وصولیات محض 100 کروڑ روپئے ماہانہ کی کمترین سطح تک گھٹ گئی ہیں ۔
