قومی سطح پر تلنگانہ و آندھرا کے عہدیداران بھی شامل ، عہدیدار خوف کا شکار
حیدرآباد۔28نومبر(سیاست نیوز) قومی سطح پر جن انکم ٹیکس عہدیداروں کو قبل از وقت مستعفی ہونے کی ہدایت دی گئی ہے ان میں 5عہدیداروں کا تعلق تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے بھی ہے جنہیں بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے سبب اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔ مرکزی حکومت نے بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں کو مقدمہ کا سامنا کرتے ہوئے عہدوں پر برقرار رہنے کی پالیسی کو ختم کرتے ہوئے دوسری معیاد میں اقتدار حاصل کرتے ہی 12 عہدیداروں کو جبری سبکدوشی اختیار کروانے میں کامیابی حاصل کی اور انہیں مستعفی کروادیا اور اب جن 21عہدیداروں کو مستعفی کروایا گیا ہے ان میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے 5 عہدیدار شامل ہیں جن میںانکم ٹیکس عہدیدار راج شری (راجمندری ) شامل ہیں جنہیں 1.5لاکھ روپئے رشوت کے حصول کے الزام میں خدمات سے علحدہ کردیا ہے۔اسی طرح مسٹر بی سرینواس راؤ(وشاکھاپٹنم) سے تعلق رکھنے والے عہدیدار ہیں جنہیں سی بی آئی نے 75 ہزار روپئے وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا انہیں بھی خدمات سے برطرف کردیا گیا ہے
۔حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے انکم ٹیکس آفیسر جی وینکٹیشور راؤ ہیں جنہیں ٹیکس دہندگان سے رشوت لینے کے الزامات کا سامنا ہے اور انہوں نے اپنے ہی محکمہ کے دیگر ملازمین کے علاوہ آڈیٹرس کے ذریعہ یہ رقومات حاصل کی ہیں۔پی وینکٹیشور راؤ انکم ٹیکس عہدیدار جن کا تعلق وشاکھا پٹنم سے ہے کو ان کی خدمات سے معطل کردیا گیا ہے اورانہوں نے بھی رضاکارانہ طور پر اپنا استعفی پیش کیا ہے جنہیں 65لاکھ روپئے رشوت وصول کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔لکشمی نیرجا نامی انکم ٹیکس عہدیدار کو بھی 20 ہزار رشوت طلب کرنے کے الزام کا سامنا تھا انہیں بھی اپنی خدمات سے استعفی پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں بد عنوانیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں شروع کی جانے والی مہم کے طور پر انکم ٹیکس عہدیدارو ںکی بد عنوانیوں کو ختم کرنے کے سلسلہ میں پہلی کاروائی کے دوران 12عہدیداروں کو اسی راستہ سے ملازمت سے بیدخل کیا تھا اور اس مرتبہ 21 عہدیداروں کو حکومت کی جانب سے اس اہم محکمہ کی ملازمتوں کو ترک کروایا گیا جس کے نتیجہ میں اب محکمہ کے دیگر عہدیداروں میں خوف کا ماحول پیدا ہونے کا امکان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستو ںمیں خدمات انجام دینے والے محکمہ انکم ٹیکس کے علاوہ سی بی ڈی ٹی کے عہدیدارو ںکی جانب سے بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں کی نشاندہی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جن عہدیداروں کے خلاف الزامات ہیں ان کی مکمل فہرست تیار کرتے ہوئے حکومت کو پیش کی جائے۔