بدعنوانی اور ووٹ چوری نے جمہوریت کو کمزور کیا:پرینکا گاندھی

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان پھر برطانوی دور جیسی راہ پر، بہار میں این ڈی اے حکومت نے غریبوں کو مزید پریشان کردیا

پٹنہ۔ 5 نومبر (ایجنسیز) کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے منگل کو بہار کے مغربی چمپارن کے والمیکی نگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی این ڈی اے حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی حالت ایسی ہو گئی ہے جیسے برطانوی راج کے زمانے میں تھی۔ ان کے مطابق این ڈی اے بہار میں ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔پرینکا نے کہا کہ یہ وہی زمین ہے جہاں سے مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن آج ملک ایک بار پھر اسی سمت جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کے تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام، جن میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں، ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار میں بے روزگاری اور نقل مکانی اپنی انتہا پر ہے، نوجوان روزگار کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ کسانوں کو بڑھتی لاگت اور ٹیکس کے باعث مناسب آمدنی حاصل نہیں ہو رہی۔ پرینکا گاندھی نے مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے ملک کے سرکاری اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے بقول، تمام بڑی فیکٹریاں، صنعتیں اور بندرگاہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے دو دوستوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، حتیٰ کہ بہار کی فیکٹریوں اور ٹھیکوں کو بھی گجرات منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجر اور کاروباری بھی اس دباؤ میں صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی کو بدعنوانی، جرائم پر قابو پانے اور نوجوانوں کی تعلیم کی فکر ہونی چاہئے، مگر وہ اس بات سے زیادہ فکرمند ہیں کہ کانگریس کے پوسٹر پر تیجسوی یادو کی تصویر کیوں نہیں ہے، جبکہ وہ خود نتیش کمار کو اپنے ساتھ اسٹیج پر نہیں رکھتے۔پرینکا نے بی جے پی رہنماؤں پر پنڈت جواہر لال نہرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی ہر غلطی کا الزام نہرو پر ڈال دیتے ہیں۔ خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بھاجپا والے آپ کو الیکشن سے پہلے پیسہ دیں گے، لے لیجیے، مگر یاد رکھیے، وہ الیکشن کے بعد وہ پیسہ نہیں ملے گا۔ جنہوں نے ملک کی زمین اور وسائل کارپوریٹ گھرانوں کو بیچ دیے، وہ کبھی غریبوں کیلئے نہیں سوچیں گے۔