بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: رشوت کے کیس میں براہ راست ثبوت نہ ہونے پر بھی دی جا سکتی ہے سزا

   

نئی دہلی: بدعنوانی کیسز میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آگیا۔ رشوت لینے یا دینے کے معاملات میں براہ راست ثبوت نہ ہونے پر بھی سزا ہو سکتی ہے۔ سزا حالاتی شواہد کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔ پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ کیا رشوت لینے یا دینے سے متعلق براہ راست ثبوت کی عدم موجودگی میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کے تحت سزا سنائی جا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ میں پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے 22 نومبر کو سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس بی آر گوائی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگارتنا کی 5 رکنی بنچ نے اس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت بدعنوانوں کے خلاف نرم رویہ اختیار نہ کرے۔ بدعنوان اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور انہیں سزا دی جانی چاہئے، کیونکہ بدعنوانی نے گورننس کو متاثر کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔