برج بھوشن کیخلاف جنسی ہراسانی کی شکایت پر دہلی پولیس کو نوٹس

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی سات خواتین پہلوانوں کی درخواست پر منگل کے روزدہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ یہ ’’سنگین الزام‘‘ہے ۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے دلائل پر غور کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایک نابالغ سمیت سات خواتین پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق ہے ۔ بنچ نے مسٹر سبل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعہ کو کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ رٹ پٹیشن میں پہلوانوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی نوعیت کے پیش نظر درخواست گزاروں کے ناموں میں ترمیم کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنا حکم جاری کرنے سے پہلے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں متاثرہ شخص ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156(3) کے تحت علاج کا فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔
اس پر مسٹر سبل نے استدلال کیا کہ ایسی شکایات پر ایف آئی آر درج نہ کرنے کے لئے یہاں تک کہ پولیس اہلکاروں پر بھی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ۔