برج خلیفہ پر بتکماں، تشہیر کا خرچ اور ادائیگی پر سوال

   

رات میں جئے تلنگانہ و جئے کے سی آر کی گونج، صبح سوشل میڈیا پر منفی ردعمل

حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) برج خلیفہ پر بتکماں اور جئے تلنگانہ و جئے کے سی آر کے نعروں کو گذشتہ شب تک تلنگانہ کے لئے اعزاز تصور کیا جا رہاہے اور یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ دبئی کے سب سے اونچی عمارت پر تلنگانہ میں منائے جانے والے پھولوں کے تہوار کو برج خلیفہ پر پیش کیا جا رہاہے لیکن صبح ہونے تک سوشل میڈیا پر برج خلیفہ پر پیش کئے جانے والے اشتہار کی قیمتوں کے سلسلہ میں پوسٹس نے گذشتہ شب سے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ برج خلیفہ پر کئے گئے اس لیزر لائٹ کے مظاہرہ کا بل کس نے ادا کیا ہے۔ دبئی میں بتکماں اور برج خلیفہ کو بتکما‘ جئے کے سی آر ‘ جئے تلنگانہ اور کے سی کے آر کے نقش سے منور کرنے کے پروگرام کے سلسلہ میں رکن قانون ساز کونسل مسز کے کویتا کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی ارکان اسمبلی بھی دبئی میں موجود تھے اور برج خلیفہ پر بتکماں اور تلنگانہ راشٹر سمیتی سے متعلق مواد پیش کئے جانے کے بعد اس کی خوب تشہیر کی گئی لیکن رات دیر گئے برج خلیفہ پر اشتہارات کے پیاکیج کی تفصیلات نے بتکماں کی اس تشہیر اور منفی تشہیر میں تبدیل کردیا اور سوشل میڈیا پر مختلف گوشوں سے یہ سوال کیاجانے لگا ہے کہ برج خلیفہ پر پیش کئے گئے اس پروگرام کے لئے تشہیری ادائیگی کس نے کی ہے۔برج خلیفہ پر ہفتہ بھر میں کسی بھی رات 8تا 10 بجے کے درمیان 2تا 3منٹ کے اشتہار کیلئے 2لاکھ 50 ہزار درہم ادا کرنے پڑتے ہیں جو کہ 68 ہزار 73 امریکی ڈالر ہوتے ہیں۔ہندستانی کرنسی میں یہ رقم 2تا3منٹ کیلئے 51 لاکھ روپئے سے تجاوز کرجاتی ہے۔ تعطیل کے ایام میں ہفتہ کے آخری دو یوم کے دوران برج خلیفہ پر 2 مرتبہ 3منٹ کے لئے 3لاکھ 5ہزار درہم ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ 5لاکھ درہم میں 5مرتبہ 3منٹ تک شام 7بجے سے 10 بجے کے دوران یہ اشتہار چلایا جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی 10 لاکھ درہم ادا کرتا ہے تو نصف شب بھی یہ اشتہار چلایا جاتا ہے۔ ہفتہ کی شب برج خلیفہ پر تلنگانہ تہذیب کے نام پر بتکماں کے ساتھ جئے کے سی آر اور جئے تلنگانہ جیسے نعروں کے ساتھ کی جانے والی روشنیاں اور برج خلیفہ کو منور کئے جانے کی خوب تشہیر ہوتی رہی لیکن صبح ہونے تک اشتہار کی قیمتوں نے اسے تشہیری مواد اور برج خلیفہ پر تشہیر کی قیمتوں کو سوشل میڈیا پر پیش کرتے ہوئے منفی تشہیر کو خوب ہوا دی لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی یا تلنگانہ جاگرتی کے علاوہ کسی بھی گوشہ سے اس مسئلہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس بات کی تردید کی گئی ۔م