184 افراد نے غلط معلومات درج کرائیں، تلنگانہ کے علاوہ پڑوسی ریاستوں میں چوکسی
حیدرآباد۔ برطانیہ میں کورونا طرز کے نئے وائرس کے منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان میں چوکسی اختیار کرلی گئی ہے اور برطانیہ سے وطن واپس افراد پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حالیہ عرصہ میں برطانیہ سے واپس ہوئے افراد کی نشاندہی کا عمل شروع کیا گیا جس کے دوران پتہ چلا کہ 279 افراد کے بارے میں حکام نشاندہی کرنے میں ناکام رہے جبکہ 184 افراد ایسے ہیں جنہوں نے حکام کو غلط موبائیل نمبر اور پتہ تحریر کرایا ۔ بتایا گیا کہ تلنگانہ میں 9 ڈسمبر سے اب تک 1216 افراد برطانیہ سے واپس ہوئے ان میں سے 279 لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق 92 کا تعلق آندھرا پردیش، کیرالا اور کرناٹک سے ہے۔ یہ حیدرآباد پہنچنے کے بعد اپنے مقامات روانہ ہوگئے۔ حکومت نے واپس تمام افراد کا کورونا ٹسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نئے وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا جاسکے۔ گذشتہ دو دنوں میں 16 مسافرین میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ 279 کے منجملہ 184 نے حکام کو اپنا غلط فون نمبر اور پتہ درج کرایا جس سے ان کے مقام تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی ۔ عہدیداروں نے تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی تفصیلات متعلقہ ریاستی حکومتوں کو روانہ کردی ہیں تاکہ ان کا پتہ چلاکر ٹسٹ کیا جائے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت جی سرینواس راؤ نے بتایا کہ ہفتہ کے دن جن 3 افراد کا ٹسٹ مثبت آیا تھا وہ 79 دوسرے مسافرین میں شامل ہیں جن کا ٹسٹ پہلے کیا جاچکا ہے۔ 21 مشتبہ مریضوں کو مختلف دواخانوں کے خصوصی وارڈس میں رکھا گیا ہے۔ 18 مسافرین کے نمونوں کو سی سی ایم بی روانہ کیا گیا تاکہ نئے وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا جاسکے۔ توقع ہے کہ آئندہ دو دنوں میں رپورٹ وصول ہوجائے گی۔ حکام کو لاپتہ افراد کا پتہ چلانے کیلئے کافی دشواریاں ہورہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فون نمبرس کے ذریعہ موبائیل ٹاورس کو مربوط کرتے ہوئے حقیقی مقام کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی لیکن چونکہ فون نمبرس غلط ہیں لہذا موبائیل ٹاورس بھی حکام کیلئے مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ لاپتہ مسافرین محکمہ صحت کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جن افراد میں وائرس کا شبہ ظاہر ہوا ہے ان کا تعلق حیدرآباد ، ملکاجگیری، جگتیال، منچریال، رنگاریڈی، نلگنڈہ، سنگاریڈی ، سدی پیٹ اور ورنگل سے ہے۔ لاپتہ افراد کا پتہ چلانے کیلئے حکام عصری ٹکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
