لندن ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ بالآخر جمعہ 31 جنوری کو یوروپی یونین سے علحدہ ہوگیا اور اس طرح برطانیہ کی اپنے قریب ترین پڑوسی ممالک کے ساتھ 40 سالہ طویل معاشی، سیاسی اور قانونی قربت اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم یہ بات اب بھی وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہیکہ آنے والے تقریباً کچھ ماہ تک برطانیہ میں حالات جوں کے توں رہیں گے کیونکہ فریقین کو حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت درکار ہے اور اس کے بعد ہی مستقبل کی شراکت داری کو قطعیت دی جائے گی۔ یاد رہے کہ قبل ازیں بریگزیٹ کیلئے تین بار مدتوں کا تعین کیا گیا اور ان پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ جون 2016ء میں اس کیلئے ریفرنڈم کیا گیا تھا اور اب پورے 43 ماہ بعد برطانیہ یوروپی یونین سے خارج ہورہا ہے۔ برطانیہ کی عوام کو فی الحال کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ 31 ڈسمبر 2020ء تک برطانیہ میں حالات کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے گا تاہم یوروپی اداروں میں برطانیہ اپنی نمائندگی اور رائے دہی کے حق سے محروم ہوجائے گا جس میں یوروپی پارلیمنٹ میں کسی بھی برطانوی رکن کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔