بغیر محرم حج کرنے والی خواتین کا کوئی پرسان حال نہ تھا؟

   

نئی دہلی: ملک کے عازمین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے دعوی کیا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کل من کی بات میں سفرحج کا ذکر کیا مگر افسوس ہے کہ حج انتظام کو بہتر بنانے کے لیے ان کو کئی خطوط ہم نے لکھا مگر اس کی طرف انھوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں وزیر اعظم کے اس بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ مگر ان کا یہ کہنا کہ 4 ہزار خواتین جو بنا محرم کے اس سال حج کو گئی تھیں وہ ہماری حکومت کی بہت بڑی حصول یابی اورکامیابی رہی جبکہ موصوف کا یہ بیان سچائی کے برعکس ہے اور ان عورتوں کا وہاں پہ کوئی پرسان حال نہیں تھا اور یہی نہیں حج 2023 پوری طرح بدانتظامی اور مہنگائی کی وجہ سے بہت پریشان کن رہا ۔انہوں نے کہا کہ جب سے یہ وزیر اعظم بنے ہیں پہلی بار سفر حج کا نام انھوں نے لیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا ان کی حکومت بننے کے بعد دھیرے دھیرے حج کی تمام سہولتیں چھینی جاتی رہیں اور انتظام کے تحت قدیمی روایت کو بھی دھیرے دھیرے ختم کردیا گیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حج ایکٹ 2002 جو آنجہانی اٹل جی کی حکومت میں بناتھا کئی برسوں سے مستقل اس کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ دھجی اڑا ئی جارہی ہے یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی ایکٹ پر عمل نہیں ہورہاہے اور حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل بھی ایکٹ کے تحت نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک مودی حکومت کے ذمہ دار وزیر ملک کے عازمین حج کے ساتھ غلط بیانی کرتے رہے کبھی کہا گیا کہ مودی حکومت حاجیوں کے لیے پانی کا جہاز چلائے گی جس سے سفر حج بہت سستا ہوجائے گا اور حج 2023 کو بھی ان کی حکومت کے وزیر نے کہا کہ حج 50 ہزارروپیے سستا ہوگا جبکہ 7.6 سالوں میں حج 5 گنا مہنگا ہوگیا۔