حکومت و الیکشن کمیشن کو ہائیکورٹ کی ہدایت ۔ وارڈز کی تقسیم میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات پر زور
حیدرآبادیکم اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت مجوزہ بلدی انتخابات کیلئے کوئی اعلامیہ جاری نہ کرے اور نہ انتخابی شیڈول جاری کیا جائے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں جاری مقدمات کی سماعت کے دوران یہ احکام جاری کئے اور کہا کہ ریاست میں بلدی انتخابات کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی اس وقت تک عمل میں نہ لائی جائے جب تک وارڈس کی تقسیم میں دھاندلیوں کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی ۔ ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں اس مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ وہ تمام درخواستوں اور حکومت کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد یکم اکٹوبر کو فیصلہ صادر کرے گی۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ میں ہدایت دی کہ ریاست میں فوری انتخابی اعلامیہ جاری نہ کیا جائے بلکہ درخواست گذاروں کے الزامات کی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کی جانب سے جلد بلدی انتخابات کو یقینی بنانے کے دعؤوں کے تحت بلدی وارڈس کی نئی حد بندی پر اعتراضات کئے گئے تھے جس کی تحقیق اور دعوؤوں پر اعتراضات کا جواب دیئے بغیر اعلامیہ کی اجرائی کے خدشات کے تحت عدالت سے رجوع ہونے والوں کو ہائی کورٹ سے اب تک راحت حاصل ہوتی آئی ہے اور آج عدالت نے جو احکام جاری کئے ہیں ان کے مطابق جب تک ان الزامات کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بلدی انتخابات کا اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ درخواست گذاروں کا کہناہے کہ یہ احکامات ان کی کامیابی ہیں کیونکہ یہ تاثر دے رہی تھی کہ حکومت اور الیکشن کمیشن فوری بلدی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں تیار ہیں اور حکومت پارٹی فورم سے متعدد مرتبہ یہ اعلان کرچکی ہے کہ بلدی انتخابات جلد ہونگے۔ ان اعلانات کے سبب درخواست گذاروں نے عدالت سے درخواست کی تھی واضح احکامات کی اجرائی کے ذریعہ عوام میں پھیل رہی بد گمانیوں کو دور کیا جائے اور وارڈس کی تقسیم کے عمل کو درست کیا جائے۔