بی آر ایس کو 17 میونسپلٹیز ، 25 میونسپلٹیز کا معلق نتیجہ، 7 کارپوریشنوں میں 5 پر کانگریس کو اکثریت، نظام آباد اور کریم نگر میں بی جے پی کو برتری
حیدرآباد ۔13 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے اپنی سبقت کو برقرار رکھے ہوئے کارپوریشنوں اور میونسپلٹیز کی اکثریتی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت کے دو سال کی تکمیل کے بعد پنچایت چناؤ میں کانگریس کو بہتر کامیابی ملی تھی ۔ دیہی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں حکومت کی کارکردگی اور کانگریس پارٹی کی مقبولیت کا بلدی چناؤ امتحان ثابت ہوئے اور آج چناوی نتائج نے کانگریس کو برتری عطا کرتے ہوئے عوامی تائید کے دعویٰ کو درست قرار دیا ہے۔ 116 میونسپلٹیز اور 7 میونسپل کارپوریشنوں کے لئے آج صبح 8 بجے سے رائے شماری کا آغاز ہوا۔ ابتدائی نتائج میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا گیا لیکن رائے شماری جیسے جیسے آگے بڑھنے لگی کانگریس کی نشستوں میں اضافہ ہوا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے رات تک جاری کئے گئے نتائج میں کانگریس کو 116 میونسپلٹیز میں 74 پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی آر ایس نے 17 میونسپلٹیز پر قبضہ کیا ہے۔ بی جے پی کو ایک اور فارورڈ بلاک کو ایک میونسپلٹی میں اکثریتی حاصل ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 میونسپلٹیز میں نتائج معلق رہے اور کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ان میونسپلٹیز کے چیر پرسن اور وائس چیر پرسن کے عہدوں پر کامیابی کے لئے کانگریس اور بی آر ایس نے دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروںکی تائید حاصل کرنے کی مہم کو تیز کردیا ہے۔ 7 میونسپل کارپوریشنوں میں 5 پر کانگریس کا قبضہ رہا جبکہ کریم نگر اور نظام آباد کارپوریشنوں میں بی جے پی واحد بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ راما گنڈم ، محبوب نگر ، منچریال ، کتہ گوڑم اور نلگنڈہ کارپوریشنوں میں کانگریس پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ۔ تازہ ترین انتخابی نتائج کے مطابق کانگریس کو میونسپلٹیز میں 1349 وارڈس میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی آر ایس امیدواروں کو 718 نشستوں پر کامیابی ملی ۔الیکشن کمیشن نے 116 میونسپلٹیز کے جملہ 2582 وارڈس میں 2581 کے نتائج جاری کردیئے ہیں۔ بی جے پی کے 261 امیدوار منتخب ہوئے جبکہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں میں 256 کامیاب رہے۔ کریم نگر کارپوریشن کی 66 نشستوں میں 30 پر بی جے پی کو کامیابی ملی جبکہ کانگریس 14 ، بی آر ایس 9 ، مجلس 3 ، آزاد 8 اور فارورڈ بلاک کے 2 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کھمم اور متحدہ نلگنڈہ ضلع میں کانگریس پارٹی کو یکطرفہ کامیابی حاصل ہوئی اور اپوزیشن کا صفایا ہوگیا۔ متحدہ میدک ضلع کی 19 میونسپلٹیز میں بی آر ایس کو 6 ، کانگریس 7 میونسپلٹیز میں کامیابی حاصل ہوئی۔ باقی میونسپلٹیز میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی۔ ظہیر آباد ، اسنا پور ، کوہیر ، نرسا پور اور میدک میونسپلٹیز میں نتائج غیر واضح رہے۔ کئی بلدی وارڈس میں محض ایک تا 5 ووٹوں کے فرق سے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ کانگریس پارٹی کو جن میونسپلٹیز میں واضح اکثریت ملی ، ان میں حضور نگر ، کوداڑ ، چٹیال ، بھوت پور ، دھرماپوری ، بھیمگل ، بچکنڈہ ، بانسواڑہ ، ایلا ریڈی ، سلطان آباد ، چینور ، منتھنی ، ڈورنکل ، سنگا ریڈی ، آندول ، جوگی پیٹ ، سداسیو پیٹ ، رامائن پیٹ ، حضور آباد ، کلواکرتی ، مدور ، اسٹیشن گھن پور ، مدھیرا ، ملگ ، آلیر اور اشواراؤ پیٹ شامل ہیں۔ سرسلہ میں بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی مساعی سے بی آر ایس کو شاندار کامیابی ملی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق رات دیر گئے تک رائے شماری مکمل ہوگی۔1