بلدیاتی نتائج مجموعی طور پر بی آر ایس کیلئے حوصلہ افزاء : کے ٹی آر

   

کانگریس کا بی جے پی سے گٹھ جوڑ، سرکاری مشنری کا بیجا استعمال ، بی آر ایس مستقبل کا ایکشن پلان تیار کرے گی

حیدرآباد : 13 فبروری ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے بلدیاتی انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر ’ حوصلہ افزا ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کیڈر کو ہرگز مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پارٹی قیادت مستقبل میں مزید بہتر نتائج کے حصول کیلئے جامع ایکشن پلان تیار کرے گی ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر سابق وزیر محمد محمود علی کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارٹی کو تقریباً 700 تا 800 وارڈس میں کامیابی کی امید تھی جبکہ پارٹی نے 15 بلدیات میں واضح اکثریت حاصل کی ہے ۔ مزید 37 بلدیات میں بی آر ایس نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ، جہاں معلق صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ بی آر ایس پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں 30فیصد سے زائد وارڈس پر کامیابی درج کی گئی۔ کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ بعض مقامات پر کانگریس نے عہدیدار وں پر اثر انداز ہوتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں حکمراں کانگریس نے پیسہ اور شراب کو پانی کی طرح بہایاہے ۔ سرکاری مشنری کے غلط استعمال اور بے ضابطگیوں کے باوجود بی آر ایس کارکنوں نے بہادری سے مقابلہ کیا ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گدوال کے ایک وارڈ میں چار مرتبہ دوبارہ گنتی کرائی گئی جبکہ وردھنا پیٹ میں بھی متعدد بار ری کاؤنٹنگ ہوئی تھی ، یہ سب حکمراں جماعت کے دباؤ کا نتیجہ تھا ۔ سنگاریڈی کوئلہ گھوٹالے کے انکشاف کے بعد سی پی آئی نے کیتن پلی میونسپلٹی میں بی آر ایس کے ساتھ آئی جس کے نتیجہ میں وہاں کامیابی حاصل ہوئی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جہاں معلق بلدیاتی ادارے وجود میں آئے ہیں وہاں کانگریس نے فوری طور پر چیرمین کی نشست پر قبضہ کرنے کیلئے توڑجوڑ کی سیاست شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کانگریس اور بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر سنگارینی میں جاری بدعنوانیوں کو روکنا ہے تو سی پی آئی کو بی آر ایس کا ساتھ دینا چاہیئے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ عوام کا ماننا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کا موثر مقابلہ صرف بی آر ایس کرسکتی ہے اور کے سی آر کی قیادت ہی ریاست کے مفادات کی ضامن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی غیر جانبدار منتخب نمائندوں کو ساتھ لیکر چلنے کیلئے تیارہے اور مستقبل میںبہتر کارکردگی کیلئے حکمت عملی واضح کی جائے گی ۔2