شہری حدود میں وصول کئے جانے والے ٹیکس میں حصہ داری کی اجرائی سے گریز۔ کارپوریشن حد درجہ مقروض
حیدرآباد۔5جولائی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو نظر انداز کرنے اور بجٹ میں حصہ کی عدم اجرائی کے سبب جی ایچ ایم سی دیوالیہ کا شکار ہوچکی ہے اسی لئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں Escrow کھاتہ کھلواتے ہوئے اثاثوں کو رہن رکھوانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے کارپوریشن کے اثاثہ جات کو رہن رکھوانے سے متعلق کہا کہ حکومت کی جانب سے کارپوریشن کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے اور سیاسی بازآبادکاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تشکیل تلنگانہ تک بھی بلدیہ حیدرآباد کی مالی حالت انتہائی مستحکم تھی لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد بتدریج مالی حالت ابتر ہوتی چلی گئی۔ مجلس بلدیہ کو انٹرٹینمنٹ ٹیکس‘ جائیداد ٹیکس‘ پروفیشنل ٹیکس کے علاوہ موٹر وہیکل ٹیکس میں جو حصہ ملنا چاہئے وہ حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ پروفیشنل ٹیکس جو جی ایچ ایم سی حدود میںوصول کیا جاتا ہے اس میں 95 فیصد حصہ ازروئے قانون بلدیہ کے حوالہ کیا جانا چاہئے لیکن کمرشیل ٹیکس کی جانب سے یہ ٹیکس حکومت کو حوالہ کیا جانے لگا ہے جب کہ موٹر وہیکل ٹیکس جو جی ایچ ایم سی حدود میں وصول کیا جاتا ہے وہ سالانہ 1ہزار کروڑ کے قریب ہے اور اس میں سے 10 فیصد حصہ جی ایچ ایم سی کو دیا جانا چاہئے جو دوسرے فینانس کمیشن کی سفارش ہے ۔ پروفیشنل ٹیکس جو وصول کیا جاتا ہے وہ 500 کروڑ کے قریب ہے اس میں 95 فیصدحصہ جی ایچ ایم سی کو دیا جانا چاہئے لیکن یہ بھی گذشتہ 7سال سے جاری نہیں کیا گیا ۔ جائیداد ٹیکس جو کہ 100 فیصد جی ایچ ایم سی کو حاصل ہونا چاہئے وہ بھی حکومت کے خزانہ میں جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ متحدہ آندھراپردیش میں فلائی اوور اور بڑے پراجکٹس کیلئے حکومت سے فنڈس جاری کئے جاتے تھے لیکن تلنگانہ میں پالیسی کو تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے تمام اے آر ڈی پی پراجکٹس کا مالی بوجھ بلدیہ حیدرآباد پر عائد ہونے لگا ہے اور بلدیہ مختلف محصولات میں حصہ نہ ملنے کے علاوہ ان بڑے پراجکٹس کے بوجھ کی وجہ اس قدر مقروض ہوچکی ہے کہ یہ سنگین فیصلہ کرنا پڑا ۔ حکومت کی جانب سے نالوں کے ڈیولپمنٹ کا جو منصوبہ تیار کیا گیا اس کے تحت جی ایچ ایم سی کو کوئی بجٹ نہیں دیا گیا بلکہ اس کا بوجھ بھی جی ایچ ایم سی پر عائد کردیا گیا ا۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی حدود میں کئی سڑکوں کو تجارتی قرار دینے کا فیصلہ کیا اور ان پر ترقیاتی کاموں اور خانگی جائیدادوں سے وصول کئے جانے والے ٹیکس کو نالوں کی ترقی کے پراجکٹ پر خرچ کیا جائے گا اور جن سڑکوں کو تجارتی قرار دیا گیا ہے ان پر محصولات میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جی او بھی جاری کیا جاچکا ہے۔