سیاسی سرپرستی کے حامل کنٹراکٹرس کے بلوں کی عاجلانہ منظوری کی شکایات
حیدرآباد۔6جولائی(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کنٹراکٹرس کے بلوں کو منظوری نہ کئے جانے کے سبب کنٹراکٹرس کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ کنٹراکٹرس سے جو کام کروائے جا رہے ہیں ان کاموں کے بل کئی ماہ تک روکے جانے کے سبب کنٹراکٹرس کو معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سیاسی سرپرستی کے حامل کنٹراکٹرس کے بلو ں کو جلدی منظوری حاصل ہورہی ہے اور جو کنٹراکٹرس روایتی انداز سے ہٹ کر ٹنڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ان کے کروڑوں روپئے کے بقایاجات ادا شدنی ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کے پاس بجٹ نہ ہونے کے سبب بلدی عہدیدار بلوں کی منظوری کے معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں کر پا رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال رہی تو جاریہ سال کے اواخرتک بھی کنٹراکٹرس کے بلوں کو منظوری حاصل ہونے کے امکانات موہوم ہیں۔کنٹراکٹرس اسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کنٹراکٹرس کو 600 کروڑ سے زائد بلوں کی اجرائی کرنی ہے اور کنٹراکٹرس کی جانب سے بقایاجات طلب کرنے پر کہا جا رہاہے کہ بلدیہ کا خزانہ خالی ہے اسی لئے فوری طور پر ان رقومات کی اجرائی ممکن نہیں ہے۔ گذشتہ یوم جی ایچ ایم سی کے ایک کنٹراکٹر کی موت کے بعد اسوسیشن کے عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ 10 جولائی سے جی ایچ ایم سی کنٹراکٹرس’’ ادائیگی نہیں تو کام نہیں ‘‘ مہم کا آغاز کریں گے اور تمام ترقیاتی کاموں کو بند کردیا جائے گا کیونکہ بلدیہ سے رقومات کی اجرائی کے انتظار میں اب کنٹراکٹرس کی موت واقع ہونے لگی ہے۔ اسوسیشن نے بتایا کہ متوفی کنٹراکٹرمرلی دھرریڈی جو کہ قلب پر حملہ کے سبب فوت ہوئے ہیں گذشتہ ایک برس سے ایک کروڑ 30لاکھ روپئے کے لئے دفتروں کے چکر کاٹ رہے تھے۔ جی ایچ ایم سی کنٹراکٹرس اسوسیشن نے بتایا کہ کئی گتہ داروں کی جانب سے قرض حاصل کرتے ہوئے انہیں منظورہ کامو ںکو مکمل کیا گیا ہے اوراب وہ قرض کی ادائیگی کے لئے پریشان ہیں اور بلدی عہدیدارو ںکی جانب سے ان کے مسائل کے حل اور بقایاجات کی اجرائی کے بجائے ان کے لئے مزید مسائل پیدا کئے جانے لگے ہیں اور گتہ دار ان مسائل کو برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے اب کام بند کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور 10 جولائی سے کوئی کام انجام نہیں دیا جائے گا۔