کوئٹہ ۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کے بعد کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 11 مزدوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ مرنے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔مقامی لیویز اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیاکو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے مچھ کے علاقے گیشتری کے کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کانکنوں کا آدھی رات کو اغوا کیا۔اہلکار کے مطابق مسلح افراد نے مغویہ مزدورں کو قریبی پہاڑوں میں لے گئے۔ جہاں پہلے انہوں نے ان کی شناخت کی اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہلاک کیا۔لیویز حکام کے مطابق پہاڑوں سے آٹھ افراد کی نعشیں ایک جگہ جب کہ 3 نعشتں دوسری جگہ سے ملی ہیں۔واقعے کے بعد فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ جہاں زخمی ہونے والے سات دیگر افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔مچھ, بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بولان کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہاں کوئلے کی کانوں کے علاوہ قدیم کوئلہ ڈپو بھی ہے۔ جہاں ملک بھر سے کانکن کام کی غرض سے آتے ہیں۔یہاں پر موجود مچھ جیل کا شمار ملک کی بڑی اور قدیم جیلوں میں ہوتا ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملزمین کی فوری گرفتاری کی ہدایت دی ہے۔ایک ٹوئٹ میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کان کنوں پر حملہ دہشت گردوں کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ہے۔مچھ میں پیش آنے والے واقعہ پر گورنر اور وزیر اعلی بلوچستان کی طرف سے بھی شدید مذمت کی گئی ۔وزیرِ اعلٰی بلوچستان نے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اور شرپسند عناصر اس قسم کے واقعات کے ذریعے صوبے کے امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔بلوچستان میں کان کنوں کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔اس سے قبل بھی سورینج، مارواڑ، سنجدی، مچھ، ہرنائی اور دْکی سے کان کنوں کو اغوا کیا جاتا رہا ہے۔ جن میں سے بعض کو قتل بھی کیا گیا۔ادھر کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے باشندوں نے واقعے کے خلاف ہزار گنجی روڈ بلاک کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں شامل ہزارہ کمیونٹی کے ایک رہنما خادم حسین ہزارہ نے میڈیا کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ہزارہ کان کنوں کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے۔خادم حسین کے بقول جب تک حکومت واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔