بینکوں سے قرض کی فراہمی ، ماہر معاشیات کے مشورے ، مسلم نوجوانوں کو استفادہ کا موقع
حیدرآباد۔6نومبر(سیاست نیوز) نوجوان اپنے تجارتی ادارو ںکو از سرنو شروع کرنے کیلئے ماہرین معاشیات کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان صنعتوں اور اداروں کو دوبارہ شروع کرسکتے ہیں جنہیں مختلف وجوہات کی بناء پر وہ بند کرچکے ہیں۔ ملک میں حکومت کی جانب سے اسٹارٹ اپ کے نام سے نئے کاروباری اور صنعتی اداروں کے آغاز کیلئے جو مدد فراہم کی جا رہی ہے اس سے استفادہ کرتے ہوئے مسلم نوجوان اپنے خود کے کاروبار شروع کرنے کے متحمل ہے لیکن انہیں اس سلسلہ میں مناسب رہبری کی ضرورت ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں اگر مسلم نوجوانوں کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا تی ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں بینکو ںکے علاوہ حکومت کی مدد حاصل ہوسکتی ہے لیکن ان کو ان کاروبار یا صنعتوں کو شروع کرنے کے لئے ماہر معاشیات اور بہترین چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان کے معاشی امور میں رہنمائی کرسکیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے منسٹری آف کارپوریٹ افئیرس کی جانب سے کمپنیوں کو باقاعدہ بنانے کی 10سال کی جو مہلت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے اگر استفادہ کیا جاتا ہے اور نوجوان بالخصوص مسلم نوجوان جو کہ اپنے تجارتی نقصان یا صنعتی نقصان کے سبب تجارت کو بند کرچکے ہیں وہ دوبارہ ان صنعتی اداروں کا احیاء کرتے ہوئے انہیں قابل منافع بناسکتے ہیں۔بتایا جاتاہے کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں مرکزی حکومت کی اس اسکیم سے نوجوان فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کئی بند ہوچکی کمپنیوں کے احیاء کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں کیونکہ ان کمپنیوں کو قابل منافع بنانے کے سلسلہ میں پیش کی جانے والی مؤثرپالیسی کی صورت میں انہیں حکومت کی مدد بھی حاصل ہوسکتی ہے اور اگر مسلم نوجوان اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے منصوبہ کو ماہرین معاشیات کے ذریعہ تیار کرواتے ہوئے پیش کرتے ہیں تو انہیں بھی یہ سرکاری مدد حاصل ہوسکتی ہے جو کہ اسٹارٹ اپ کے نام پر فراہم کی جانے لگی ہے اور اس مدد کے ذریعہ وہ دوبارہ اپنی تجارت اور صنعت کے فروغ کے اقدامات کرسکتے ہیں۔ ریاستی اور قومی سطح پر حکومتوں کی جانب سے اسٹارٹ اپ کے فروغ کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے استفادہ کیلئے نوجوانوں کو حکومت کی پالیسیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے علاوہ اپنے منصوبہ کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے سلسلہ ماہرین معاشیات کے مشورے حاصل کرتے ہوئے متعلقہ ادارہ میں پیش کرنے چاہئے تاکہ ان کی جانب سے تیار کئے جانے والے منصوبہ کو قابل قبول بنایاجاسکے اور حکومت کی جانب سے اسے مسترد نہ کیا جائے۔