منہدم کرنے حکومت کو چیلنج، امدادی تقسیم میں 200 کروڑ کا اسکام: ڈاکٹر شراون
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے حکومت کو چیلنج کیا کہ بنڈلہ گوڑہ میں سلکم چیروو میں غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ اویسی اسکول آف اکسلینس کو منہدم کر کے دکھائیں۔ اے آئی سی سی کے ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر کی جانب سے کانگریس پر کی گئی تنقیدوں کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں تالابوں کی اراضی پر ناجائز قبضوں کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔ حالانکہ کانگریس دور حکومت میں کرلوسکر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے 28,000 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت میں اگر ہمت ہو تو وہ تمام غیر قانونی قبضوں کو برخواست کرنے کی کارروائی کریں۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں نقصان سے بچنے کے لئے حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سلکم چیروو میں سروے نمبر 62 کے تحت اراضی پر اویسی اسکول آف اکسلینس تعمیر کیا گیا ہے ۔ 20 ڈسمبر 2014 ء کو یہ عمارت نہیں تھی۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد یہ عمارت تعمیر کی گئی جو 27 اکتوبر 2015 ء کی فضائی تصویر میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس دور حکومت میں یہ عمارت تعمیر ہوئی ہے ۔ اگر تالابوں کی اراضی کے تحفظ میں حکومت سنجیدہ ہے تو یہ عمارت منہدم کی جانی چاہئے ۔ شراون نے ٹی آر ایس پر سیلاب کی صورتحال کو سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ عوامی رقم میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں ہوئی ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا اور نہ ہی متاثرین سے ملاقات کی ۔ پرگتی بھون تک محدود رہتے ہوئے غلط اندازے کئے گئے اور 550 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ امدادی رقم میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ شراون نے گریٹر حیدرآباد میں تقسیم کی گئی رقم اور متاثرین کی تفصیلات برسر عام پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس کے قائدین نے جو لوٹ مچائی ہے ، وہ منظر عام پر آجائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شراون نے کہا کہ اگر حکومت سلکم چیروو میں مجلس کی غیر قانونی عمارت کو منہدم کرے گی تو کانگریس بلدی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ۔ انہوں نے امدادی رقم میں 200 کروڑ روپئے کے اسکام کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تالابوں کی اراضی کے تحفظ کے لئے حکومت کو کرلوسکر کمیٹی رپورٹ پر عمل کرنا چاہئے ۔