بنگال انتخابات کیلئے کولکاتا میں الیکشن کمیشن کی پارٹیوں کیساتھ میٹنگ

   

ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے سے روکنے اور سماج دشمن عناصر کو پولنگ سے دور رکھنے سخت اقدامات کا مطالبہ

کولکاتہ، 9 مارچ (یو این آئی) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پیر کے روز کولکاتہ میں تسلیم شدہ قومی اور ریاستی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی تاکہ مغربی بنگال میں آئندہ انتخابات کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے ۔ تمام جماعتوں نے انتخابی پینل کو تشدد سے پاک انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔میٹنگ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے ساتھ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر اور کمیشن کے دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ ہر سیاسی جماعت کو کمیشن کے سامنے اپنے خیالات اور تحفظات پیش کرنے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا گیا۔ قومی جماعتوں میں سے عام آدمی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، انڈین نیشنل کانگریس اور نیشنل پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ریاستی جماعتوں کی جانب سے آل انڈیا فارورڈ بلاک اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کے رہنما موجود تھے ۔میٹنگ کے دوران کئی سیاسی جماعتوں نے مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی جاری ‘خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر)’ کو سراہا اور انتخابات کے انعقاد میں کمیشن کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے انتخابی پینل سے مطالبہ کیا کہ ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے اور سماج دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں نے امن و امان برقرار رکھنے اور تشدد روکنے کے لیے بڑی تعداد میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی تعیناتی پر زور دیا۔انتخابی عمل کے دوران بعض گروہوں کی جانب سے دیسی بموں، غیر قانونی ہتھیاروں، رقم اور طاقت کے ممکنہ استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کئی جماعتوں نے یہ درخواست بھی کی کہ مغربی بنگال میں انتخابات ایک یا دو مرحلوں میں کرائے جائیں تاکہ تشدد کے امکانات کو کم کیا جا سکے اور انتخابی انتظام کو بہتر بنایا جا سکے ۔تحفظات کا جواب دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے سیاسی جماعتوں کو یقین دلایا کہ ہندوستان میں انتخابات سختی سے قانون کے مطابق کرائے جاتے ہیں اور کمیشن مغربی بنگال میں غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”کمیشن تشدد کو قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے ” اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ووٹرفہرستوں کی نظرثانی کا عمل کسی تعصب کے بغیر شفاف طریقے سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ووٹروں کے ناموں کے اندراج، اخراج یا تصحیح کے لیے فارم 6، 7 اور 8 اب بھی جمع کرائے جا سکتے ہیں۔میٹنگ کے اختتام پر سیاسی جماعتوں نے کمیشن کو یقین دلایا کہ وہ مغربی بنگال میں آئندہ انتخابات کو پُرامن اور تشدد کے بغیر مکمل کرنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں گی۔