بنگال ایس آئی آر: 7 فروری تک 15 لاکھووٹروں کی سماعت کانشانہ

   

کولکاتا۔5؍فروری ( ایجنسیز ) مغربی بنگال میں مسودہ ووٹر فہرست پر دعووں اور اعتراضات کی سماعت مکمل کرنے کی مقررہ مدت ختم ہونے میں محض دو دن باقی رہ گئے ہیں۔ انتخابی شیڈول کے مطابق آئندہ دو دنوں میں تقریباً 15 لاکھ ووٹروں کی سماعت مکمل کی جانی ہے۔ سماعت کی آخری تاریخ 7 فروری مقرر ہے جبکہ حتمی ووٹر فہرست 14 فروری کو شائع کی جائے گی۔روزانہ کی بنیاد پر جاری سماعتوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو یقین ہے کہ مقررہ ہدف وقت پر حاصل کر لیا جائے گا۔ مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کے ایک ذریعے کے مطابق اس وقت ریاست بھر میں تقریباً 6 ہزار 500 سماعتی مراکز فعال ہیں جہاں دعووں اور اعتراضات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ذریعے نے کہا کہ اگر ہر مرکز روزانہ طے شدہ تعداد میں درخواستوں کی سماعت مکمل کرے تو مقررہ مدت میں تمام زیر التوا معاملات نمٹائے جا سکتے ہیں اور یہ کوئی دشوار کام نہیں ہے۔یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ 9 فروری کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کے سامنے ایس آئی آر معاملے کی اگلی سماعت طے ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ اس تاریخ سے پہلے دعووں اور اعتراضات کی جانچ کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی امید کی جا رہی ہے کہ وہ تین رکنی بنچ کے سامنے ریاست کا مؤقف پیش کریں گی، جیسا کہ انہوں نے چہارشنبہ کے روز کیا تھا۔ریاست میں ایس آئی آر عمل کا آغاز گزشتہ سال 27 دسمبر کو ہوا تھا۔ 14 فروری کو حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے کے بعد انتخابی کمیشن کی مکمل بنچ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مغربی بنگال کا دورہ کرے گی۔ اس کے فوراً بعد اہم اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کی توقع ہے۔

بنگال میںایس آئی آر کی وجہ سے 107 لوگوں کی موت
ریاستی اسمبلی میں قرارداد منظور‘ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے نام پر عوام میں خوف کا ماحول
کولکاتا۔5؍فروری ( ایجنسیز )مغربی بنگال اسمبلی میں 5 فروری کو ایس آئی آر سے متعلق ایک اہم قرارداد پیش کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خوف اور گھبراہٹ کے سبب 107 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ یہ قرارداد اسمبلی سے منظور بھی ہو گئی ہے۔آج مغربی بنگال اسمبلی میں ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر شووَن دیب چٹوپادھیائے نے رول۔169 کے تحت قرارداد پیش کیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخاب سے قبل ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے نام پر ریاست میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بنایا گیا ہے۔ قرارداد کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اس خوف سے نبرد آزما رہے ہیں کہ کہیں ان کے نام کو ووٹر لسٹ سے ہٹا نہ دیا جائے۔ اسی ذہنی دباؤ اور فکر کے سبب 107 لوگوں کی جان جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔