مغربی بنگال میں دیسی عوام کو بیرون ریاست کے غیرسنجیدہ عناصر کا چیلنج درپیش ۔ ٹی ایم سی بدستور ترقیاتی ایجنڈے پر کام کرے گی
کولکاتا : ٹی ایم سی قیادت نے دیسی لوگوں کو بیرون ریاست کے غیرسنجیدہ عناصر سے درپیش مقابلے کو نمایاں کرنے پر عوام سے مثبت ردعمل حاصل ہوا ہے ۔ اس سے حوصلہ پاکر برسراقتدار پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2021 ء کے اسمبلی چناؤ کے لئے بنگالی وقار کو اپنا بڑا انتخابی موضوع بنایا جائے جس کے ذریعہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی جارحانہ ہندوتوا مہم کا جواب دیا جاسکے گا ۔ ممتا بنرجی زیرقیادت پارٹی جسے اکثر حریف گروپ باضابطہ نظریاتی موضوع سے عاری ہونے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ، اب لگتا ہے کہ آخرکار اس پارٹی نے بنگالی ذیلی قوم پرستی کو انتخابی موضوع بناکر مغربی بنگال کے عوام کا دل جیتنے کی کوشش شروع کردی ہے ۔ سرکردہ پارٹی قائدین کے گروپ کا احساس ہے کہ صرف تمام علاقوں کی ترقی ہی مغربی بنگال میں مثبت حکمرانی ہوسکتی ہے ۔ یہاں زعفرانی کیمپ کی ہندوتوا پر مبنی جارحانہ قوم پرستی سوائے انتشار کے اور کچھ نتیجہ نہیں چھوڑے گی ۔ سینئر ٹی ایم سی لیڈر اور ایم پی سوگتا رائے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی سے بات چیت میں کہا کہ آنے والی اسمبلی چناؤ کے دوران ترقی کے علاوہ بنگالی افتخار ہمارا بڑا انتخابی موضوع رہے گا ۔ بنگالی وقار کا تعلق نہ صرف بنگالیوں سے ہے بلکہ یہ اس زمین کے تمام سپوتوں کی قدر دانی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ فلسفہ بی جے پی کی کوششوں کو ناکام بنائے گا جو بیرون ریاست سے قائدین کو یہاں لاکر عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹی ایم سی ذرائع کے مطابق ٹاملناڈو کی علاقائی پارٹیوں کی طرح جو ٹامل وقار کے مخالفین ہیں اور اسی طرح مہاراشٹرا میں شیوسینا ہے جو مراٹھی اشمیتا (وقار) پر زور دیتی رہی ہے ، کچھ اُسی طرح ٹی ایم سی کا منصوبہ ہے کہ بنگالی ثقافت اور شناخت کی محافظ پارٹی کے طورپر خود کو اُبھارے ۔ بہار میں جے ڈی یو نے بہاری بمقابلہ بہاری کی بات کی تھی ۔ حتیٰ کہ بی جے پی جو قوم پرستی کی علمبردار ہونے کے دعویٰ کرتی ہے ، اُس نے بھی 2007ء کے گجرات انتخابات کے دوران گجراتی اشمیتا کے انتخابی نعرے پر مہم چلائی تھی ۔ لہذا اگر ہم بھی یہی کرتے ہیں تو ہمارے خیال میں کسی کو بھی شکایت نہیں ہونا چاہئے ۔ ممتا بنرجی کی پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر جو اس نظریاتی نعرے کو وضع کرنے والے ارکان کے منتخب گروپ کا حصہ ہیں ، اُنھوں نے کہاکہ سیکولرازم کو نقصان پہونچانے والے ، انتشارپسند سیاست اور مذہبی خطوط پر تقسیم ترقیاتی سیاست کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے ۔ اس لئے صرف محدود سطح پر قوم پرستی اور علاقائیت سے ہی کام بنے گا ۔ کانگریس کی پیداوار ٹی ایم سی جو سی پی آئی (ایم ) زیرقیادت لیفٹ فرنٹ کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد برسراقتدار آئی ، اُس نے ابتداء میں ماں ، ماٹی ، منوش کا نعرہ اختیار کیا تھا جس میں اشتراکیت اور سیکولرازم کا امتزاج پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ پارٹی کو 2011 ء میں کامیابی ملی اور اس کی جیت کا سلسلہ 2016 ء کے اسمبلی چناؤ میں جاری رہا ۔ تاہم بنگال کے سیاسی نقشے میں بی جے پی کے عروج نے ٹی ایم سی کو ازسرنو غوروخوض اور انتخابی حکمت عملے تیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
کیونکہ بی جے پی کی کامیابی ترقیاتی موضوعات پر نہیں بلکہ ہندوتوا جیسے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر حاصل کی گئی ہے ۔ گزشتہ سال کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 18 نشستیں حاصل ہوئیں جس کے بعد وہ اب ریاست میں حکمرانی کے منصوبے بنارہی ہے ۔ سی پی آئی ایم اور کانگریس کی کمزوری نے بھی بنگال میں بی جے پی کے حوصلے بلند کردیئے ہیں۔