بنگلورو فساد ات ’’ فرقہ وارانہ اور منصوبہ بند‘‘:رپورٹ

,

   

٭ 11؍ اگسٹ کی شب بعض ہندوؤں کو خصوصیت سے نشانہ بنایا گیا
٭ زائداز 300 گرفتاریاں، تحقیقات جاری ۔ یدی یورپا کو رپورٹ پیش

بنگلورو : کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں پیش آئے حالیہ فسادات بلاشبہ پہلے سے طے منصوبہ کے ساتھ منظم انداز میں برپا کئے گئے اور اِن کے فرقہ پرستانہ مقاصد رہے، ’’سٹیزنس فار ڈیموکریسی‘‘ نے تحقیقات کا پتہ چلا کر اپنی رپورٹ میں یہ بات کہی۔ آج چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا کو پیش کردہ رپورٹ کے مطابق 11 اگسٹ کی شب فسادات کے دوران ہجوم نے بعض علاقوں میں مخصوص ہندوؤں کو خصوصیت کے ساتھ نشانہ بنایا اور یہ سارا واقعہ حکومت کے خلاف فساد قرار پاتا ہے جس کا مقصد ریاست کے عام لوگوں کے بھروسے کو متزلزل کرنا ہے۔ سٹیزنس فار ڈیموکریسی باشعور اور ذمہ دار شہریوں کا پلیٹ فارم ہے جو ہندوستان کے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی اور ملک کے جمہوری اقدار کے تئیں پابند عہد ہے۔ 2011 ء میں اِس ادارہ کی بنیاد ڈالی گئی اور اس نے تاحال مختلف سمینار منعقد کئے نیز قومی اور سماجی اہمیت کے موضوعات پر مہمات چلائے ہیں۔ سٹیزنس فار ڈیموکریسی نے اپنے بیان میں کہاکہ حقائق کا پتہ چلانے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں سوسائٹی کے ممتاز نمائندوں کو شامل کیا گیا جنھوں نے حالیہ تشدد کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا۔ ایسے حالات میں غیر جانبدارانہ سروے کی کلیدی اہمیت ہوتی ہے جس کے بغیر سچائی کا پتہ چلنا مشکل رہتا ہے۔ ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج سریکانت بابا لاڈی کی سربراہی میں اِس پیانل میں ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر مدن گوپال، ریٹائرڈ آئی ایف ایس آفیسر آر راجو و دیگر کے ساتھ کام کیا جن میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس، جرنلسٹس، ایڈوکیٹس، پروفیسرس اور سوشل ورکرس شامل ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے مدن گوپال کی قیادت میں آج چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی۔ اِس میں نشاندہی کی گئی کہ تقریباً 36 سرکاری گاڑیوں، لگ بھگ 300 خانگی گاڑیوں اور کئی مکانات کو تشدد میں نقصان پہنچایا گیا، جو تقریباً 10 تا 15 کروڑ تک ہوسکتا ہے۔ یہ بھی پایا گیا کہ فسادیوں میں بعض مقامی افراد بھی ملوث ہوئے۔ اِسے سیاسی رقابت کے طور پر پیش کیا گیا لیکن یہ کوئی شبہ نہیں کہ فرقہ وارانہ عزائم کے ساتھ کرایا گیا۔ پیانل کی رائے میں مکانات اور عوام کو جس انداز سے نشانہ بنایا گیا، اُس سے فسادات کا مقصد عیاں ہوتا ہے۔ ایسی کوشش کی گئی کہ مخصوص علاقے میں اقلیتی ہندوؤں کو نشانہ بناکر اُنھیں خوفزدہ کردیا جائے اور اُس علاقہ کو مسلم اکثریتی بنانے کی کوشش کی جائے۔ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی اِس تشدد میں ملوث پائے گئے اِس کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا گیا اور اُس میں پولاکیشی نگر کے کانگریس رکن اسمبلی سرینواس مورتی کے رشتہ دار پی نوین کا نام گھسیٹا گیا۔ فسادیوں نے ایم ایل اے کی قیامگاہ اور ڈی جے ہلی میں واقع پولیس اسٹیشن کو آگ لگائی، کئی خانگی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور لیجسلیٹر اور اُن کی بہن کا سامان لوٹ لیا۔ بتایا گیا کہ 300 سے زیادہ افراد اِس تشدد کے سلسلہ میں گرفتار کئے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔