ڈھاکہ : ہزاروں بنگلہ دیشی سرحد پار کر کے ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالات پر قابو پانے کیلئے ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز کی ایک مشترکہ میٹنگ بھی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور فرار ہوکر ہندوستان جانے کے بعد کی صورتحال میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں ہندو اقلیتی برادری پر حملے بھی ہوئے ہیں، جن سے خوفزدہ ہو کر بہت سے بنگلہ دیشی سرحد عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش میں مشترکہ سرحد پر جمع ہیں۔ ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے ’’غیر قانونی پناہ گزینوں‘‘ کو سرحد پار کرنے سے روکنے کیلئے بڑی تعداد میں سرحدی فورس کو تعینات کیا ہے۔
اور انہیں ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے۔بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسے متعدد بنگلہ دیشیوں کو حراست میں لے لیا گیا، جو پڑوسی ملک سے فرار ہو کر بھارت میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔بھارتی حکام نے ملکی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’گیارہ بنگلہ دیشی شہریوں کو بھارت میں دراندازی کرتے ہوئے سرحد پر پکڑا گیا ہے۔ ان میں سے دو کو مغربی بنگال اور دو کو تری پورہ میں مشترکہ سرحد سے پکڑا گیا جبکہ سات کو میگھالیہ کی سرحد سے حراست میں لیا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘‘