بنگلہ دیش میں کوٹا سسٹم عمل آوری پر روک : سپریم کورٹ

   

ملازمتوں کے بیشتر تحفظات کو ختم کردیا گیا
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ پر بھرتی سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد پر روک لگادی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ میں کوٹا سسٹم بحالی کے خلاف سماعت میں عدالت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ پر ہائی کورٹ کے حکم پرعمل آوری کو روک دیاہے ۔ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف مظاہروں میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور طلبا کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد روکا لیکن کوٹہ سسٹم مکمل ختم نہیں کیا۔ یاد رہے گزشتہ ماہ ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو بحال کیا تھا۔ڈھاکہ کی سڑکوں پر سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے، پرتشدد مظاہروں میں 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔سپریم کورٹ نے ملک بھر میں تشدد کے بعد سرکاری ملازمتوں میں زیادہ تر تحفظات کوختم کردیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہیکہ صرف 5 فیصد نوکریاں مجاہدین آزادی کے رشتہ داروں کیلئے مختص کی جاسکتی ہیں۔ حکومت نے ابھی تک اس فیصلہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 93 فیصد عوامی شعبہ کی ملازمتوں پر میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کی جانی چاہئے جبکہ 5 فیصد جدوجہد آزادی کے سابق فوجیوں کے ارکان خاندان کیلئے چھوڑی جانی چاہئے۔ باقی 2 فیصد نسلی اقلیتوں یا معذور افراد کیلئے مختص ہوں گے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے 2018ء میں کوٹہ سسٹم ختم کردیا تھا لیکن گزشتہ ماہ نچلی عدالت نے اس کو بحال کردیا جس کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا۔