بوگس رائے دہی غیر شرعی عمل، جامعہ نظامیہ کا واضح فتویٰ

   

نوجوان اور خواتین غیر شرعی حرکت سے باز آئیں، ہر عمل پر اللہ تعالیٰ کی گرفت، شعور بیداری کی ضرورت
حیدرآباد۔/28 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کی انتخابی مہم اختتام کو پہنچی اور حیدرآباد میں رائے دہندوں نے اس مرتبہ مکمل شعور کے مظاہرہ کا فیصلہ کیا ہے۔ حیدرآباد میں عام طور پر رائے دہی کا فیصد گذشتہ انتخابات میں کم ریکارڈ کیا گیا لیکن اس مرتبہ تبدیلی کی لہر کے سبب عوام رائے دہی میں حصہ لینے کیلئے جوش و خروش کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں نے خصوصی اپیل جاری کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ دینی فریضہ کی تکمیل کرتے ہوئے ووٹ کا استعمال کریں تاکہ فرقہ پرست و فسطائی طاقتوں کو اقتدار سے روکا جاسکے۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں بوگس رائے دہی سے کامیابی کا رجحان اس مرتبہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ رضاکارانہ تنظیموں اور مذہبی جماعتوں نے تلبیس شخصی کے خلاف مسلم رائے دہندوں کو مشورہ دیا ہے۔ رائے دہی جمہوری حق کے ساتھ ساتھ دینی فریضہ بھی ہے اور رائے دہندہ اپنے ووٹ کے ذریعہ صحیح اور غلط میں تمیز کرسکتا ہے۔ رائے دہندوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ بوگس رائے دہی شریعت کے احکامات کے خلاف ہے۔ جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ نے بوگس رائے دہی کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے جس کے تحت رائے دہندے اپنا اور اپنے والدین یا شوہر کا نام تبدیل کرتے ہوئے غیر شرعی عمل کا شکار بن سکتے ہیں۔ جامعہ نظامیہ کے اس فتوی کے باوجود مقامی جماعت کے کارکن بوگس رائے دہی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ سیاہ رات میں سیاہ پہاڑ پر اگر سیاہ چیونٹی چلتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہوتا ہے۔ اسی طرح دنیاوی مفادات کی تکمیل کیلئے نام تبدیل کرنا اور بوگس رائے دہی میں حصہ لینا شریعت کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ خواتین، نوجوانوں کو خاص طور پر اس بات کا احساس ہونا چاہیئے کہ ان کے ہر عمل پر اللہ تعالیٰ کی نظر ہے۔ ناخواندہ اور غریب افراد بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کو پیسہ کا لالچ دے کر بوگس رائے دہی کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس عمل میں ترغیب دینے والا اور عمل کرنے والا دونوں برابر کے ذمہ دار قرار پائیں گے۔ دینی معلومات اور شریعت سے دوری کے نتیجہ میں بھولے بھالے نوجوان رقم کی لالچ میں مختلف پولنگ بوتھ میں گھوم گھوم کر بوگس رائے دہی انجام دیتے ہیں۔ اس مرتبہ الیکشن کمیشن اور پولیس کی گہری نظر رہے گی تو دوسری طرف شریعت کی خلاف ورزی کی صورت میں گناہ کے مرتکب قرار پائیں گے۔ مسلمانوں میں تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کو اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نوجوانوں کو شریعت کی خلاف ورزی سے روکنے کی ضرورت ہے۔ رائے دہی دولت کے عوض نہیں بلکہ ضمیر کی آواز پر ہونی چاہیئے۔