بٹو بجرنگی پر فرقہ وارانہ اشتعال بھڑکانے کا مقدمہ

   

خو د ساختہ گاؤ رکھشک

نوح : ہریانہ کے ضلع نوح میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹنے کے ایک دن بعد فریدآباد پولیس نے یکم اگست کو بجرنگ دل لیڈر اور خود ساختہ گائے کے محافظ راج کمار کے خلاف ایف آئی آر درج کی جو ’ بٹو بجرنگی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ نوح ضلع اور ہریانہ کے دیگر علاقوں میں مہلک فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ایف آئی آر تشدد کے دن اس کے فیس بک پر پروفائل سے شیئر کی گئی مبینہ ویڈیو کیلئے درج کی گئی تھی ۔ فرید آباد کے ڈبوا پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی سیکشن کے تحت مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بٹو نے یاترا کے ساتھ آگے بڑھتے اور اسلحہ کی نمائش سے قبل مسلم کمیونسٹی کے خلاف اشتعال انگیز ویڈیوز جاری کر کے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی ۔ بٹو بجرنگی ہریانہ کے فرقہ وارانہ تشد کے پیچھے جو 31جولائی پیر کو پھوٹ پڑا تھا اس کے پیچھے اصل سازش کار ہونے کا الزام ہے ۔ انسپکٹر ستیش کمار کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو میں بجرنگ دل لیڈر نے ایک کمیونٹی کیلئے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور اپنے پیروکاروں کو فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانے کے ارادے سے اکسایا ۔