اہل خانہ کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے بچوں کی شخصیت پر اثر ، ماہرین نفسیات کی رائے
حیدرآباد۔24ستمبر(سیاست نیوز) بچوں کیلئے ان کے اپنے افراد خاندان اور اہل خانہ سب سے پہلی اور بہترین مثال ثابت ہوسکتے ہیں اور اگر والدین‘ بھائی بہن اور دیگر اہل خانہ کی جانب سے اختیار کئے جانے والے رویہ کے اثرات بچوں کی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں ۔ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ بچوں کو متشدد ہونے سے بچانے کیلئے یہ لازمی ہے کہ انہیں پر سکون ماحول کی فراہمی عمل میں لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے سامنے کوئی پرتشدد کاروائی نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت کی جائے جس سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔ معاشی مسائل‘ منشیات ‘ الکوحل‘ گھریلو تشدد ‘ اخلاقیات کا فقدان ‘ بری صحبت اور سماجی اور معاشی امور بچوں کی ذہنی نشو نما پر بے انتہاء اثر کرتے ہیں اسی لئے بچوں کی نشو نما میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہئے کہ انہیں کسی بھی طرح کے ذہنی تناؤ میں مبتلاء نہ کیا جائے ۔ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ موجودہ دور میں ٹکنالوجی تک بچوں کی آسان رسائی بھی صورتحال کو انتہائی ابتر کرنے لگی ہے کیونکہ بچے ٹکنالوجی کے استعمال کے نام پر ویڈیو گیم‘ پر تشدد اشتہارات اور دیگر مواد کے ذریعہ وہ سب دیکھنے لگے ہیں جو ان کی عمر میں دیکھنا مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ ویڈیو یا گیم ان کے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے بلکہ اس طر ح کے مواد سے ذہنی نشونما متاثر ہونے لگتی ہے اور ان کی منفی سونچ فروغ حاصل کرنے لگتی ہے۔بچوں میں بڑھ رہے غصہ کے متعلق کہا جا رہاہے کہ ان میں پائے جانے والے غصہ اور عدم استحکام کے علاوہ ناراضگی کے عنصر سے ان کا بچپن متاثر ہونے لگا ہے اور وہ پر تشدد ہوتے جا رہے ہیں۔بچوں کو لیاپ ٹاپ‘ موبائیل کے علاوہ دیگر گیمس حوالہ کرنے کی عمر کا تعین کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ ایسا نہ کرنے کے نتیجہ میں بچوں کی تربیت مشکل ترین امر ہوتی چلی جائے گی کیونکہ اکثر یہ دیکھا جا رہاہے کہ بچوں کو چپ کروانے کیلئے انہیں ایسے آلات حوالہ کئے جا رہے ہیں جو کہ ان کی ذہنی صحت کیلئے مناسب نہیں ہیں۔ والدین اور سرپرستوں کی جانب سے کئے جانے والے یہ اقدام ان کے اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے مناسب نہیں ہیں کیونکہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بچوں کے ذہن باغی ہونے کے ساتھ ساتھ پر تشدد ہو سکتے ہیں ۔