لکھنؤ31جنوری(سیاست ڈاٹ کام )اترپردیش حکومت نے جمعہ کوبچوں کو یرغمال بنانے والے شخص کی جانب سے بچوں کی رہائی کے عوض میں 23 کروڑ روپئے کا مطالبہ کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ فرخ آباد میں 23 بچوں رہا کرانا کافی مشکل تھا لیکن اس ضمن میں پولیس کی جانب سے دکھایا گیا صبر قابل تعریف ہے ۔وزیر اعلی نے اس آپریشن میں شامل پولیس اہلکار کو 10 لاکھ روپئے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔حکومت کے ترجمان نے یہاں گذشتہ رات ہونے والے پورے واقعہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مجرم سبھاش باتھم نے بچوں کو رہاکرنے کے عوض میں فی بچہ ایک کروڑ روپئے کے حساب سے 23 کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے بعد اس نے بچوں کو مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ قتل کرنے سے نہیں ڈرتا ہے ۔اور اس نے ماضی میں بھی ایسے ہی کئی واردات کو انجاد دے چکا ہے ۔ ایک موقع پر اس نے گاؤں والوں سے بات کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ گھر کو اڑا دے گا۔وہاں موجود لوگوں نے اسے گھر کے اندر بم لگاتے اور فرش پر کچھ جلانے والی مائل شئی کو بہاتے ہوئے دیکھا ۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے آپریش کے درمیان ایک نو ماہ کے بچے اور مجرم کے بیٹی کو مشتعل گاؤں والوں کی لنچنگ سے بچایا۔پولیس کے انکاونٹر میں سبھاش ہلاک ہوگیا جبکہ اس کی بیوی روبی کو گاؤں والوں نے پتھر مار ما رکر ہلاک کردیا۔حکومتی ترجمان کے مطابق حالات اس وقت مزید سنگین ہوگئے تھے جب یہ معلوم ہوا کہ مجرم شخص نے گھر کے اندر کثیر مقدار میں دھماکہ خیز مواد اکٹھا کررکھا ہے اور وہ گھر کواڑانے کی دھمکی دے رہا ہے ۔اس آپریش کے دوران مقامی انوپم دوبے ،ایس ایچ او محمودآباد راکیش کمار،ہیڈکانسٹیبل جئے ویر سنگھ اور کانسٹیبل انل کمار مجرم کی فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان کے مطابق آدھی رات کے بعد جب مجرم تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگیا تو پولیس نے گاؤں والوں کے تعاون سے باتھم کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔پولیس کو گھر کے اندردیکھ کر باتھم نے فائرنگ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اس وجہ سے کسی بھی بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور بعد میں مجرم پولیس کی گولی سے مارا گیا۔