نئی دہلی: بچہ مزدوری پر پابندی کے عالمی دن کا آغاز سال 2002 میں ایک ہندوستانی نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی کوششوں سے ہوا تھا۔12 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منانے کے لئے ایک طویل سفر طے کرناپڑا ہے ۔ ستیارتھی نے اس مسئلے پر مختلف ممالک میں ایک زوردار مہم چلائی اور عام لوگوں سے لے کر سربراہان مملکت، بادشاہوں- رانیوں اور اورمہاراجہ مہارانیوں کی حمایت حاصل کی۔ کروڑوں بچوں کے استحصال کے خلاف اور ان کے حقوق کو لے کرآواز اٹھانے کے لئے پر سال 2014 میں باوقار امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ستیارتھی نے دنیا کو چائلڈ لیبر کے بارے میں آگاہ کرنے اوراسے ایک سنگین جرم کے طور پر قبول کرنے کے حوالے سے سال 1998 میں ‘گلوبل مارچ اگینسٹ چائلڈ لیبر’ یعنی عالمی عوامی بیداری ٹور کا آغاز کیاتھا۔ یہ یاترا 17 جنوری 1998 کو منیلا، فلپائن سے شروع ہوئی اور 6 جون 1998 کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پر اختتام پذیر ہوئی۔ تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہنے والے اس سفر میں ستیارتھی کے ساتھ 36 بچے بھی تھے جو کبھی چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر چکے تھے ۔ اس یاترا کو تقریباً 1.5 کروڑ لوگوں کی وسیع حمایت بھی حاصل ہوئی۔اس یاترا کے دو اہم مطالبات چائلڈ لیبر کے خلاف بین الاقوامی قانون بنانا اور سال میں ایک خاص دن کو بچہ مزدوروں کے لیے وقف کرنا تھا۔