تل ابیب ۔ 21 اکٹوبر (ایجنسیز) اسرائیلی دارلحکومت کی پولیس نے متعدد کلبوں اور سیاسی مخالفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر بدنظمی اور افراتفری کی شکایات کے تناظر میں مقامی فٹبال لیگ کے تحت تل ابیب ڈربی کا انعقاد روک دیا جس پر سوموار کے دن سے ملک بھر میں غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اتوار کو منسوخ ہونے والے میچ مکابی تل ابیب اور ہبوعیل تل ابیب کے درمیان ہونے والے ہنگامے اس پس منظر میں پھوٹے جب پہلے کلب کے شائقین پر یہ پابندی عائد کی گئی تھی کہ وہ اپنی ٹیم کا یورپا لیگ میں انگلش کلب ایسٹن ولا کے خلاف اگلے ماہ چھ نومبر جمعرات کو ہونے والا میچ دیکھنے کیلئے بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکیں گے۔تل ابیب ڈربی منسوخی کا اعلان اس وقت کیا گیا جب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ میچ کے دوران شائقین نے ہنگامہ کیا، چیزیں پھینکیں، دھواں چھوڑنے والے بم اور آتش بازی کی، جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور سٹیڈیم کو نقصان پہنچا۔ عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے “کان” چینل سے گفتگو کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا: یہ کوئی فٹبال میچ نہیں بلکہ بدنظمی اور پرزور تشدد کا منظر تھا۔پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے 30 ہزار شائقین کو کنٹرول کرنے کی کارروائی کی، جب اس نے حکم دیا کہ بلوم فیلڈ اسٹیڈیم جو دونوں ٹیموں کے ہوم میچز کی میزبانی کرتا ہے کو خالی کرایا جائیپولیس کے فیصلے اور اختیار کی گئی حکمتِ عملی نے پولیس کے اعلان نے ہبوعیل کلب کی انتظامیہ میں غصے کی لہر دوڑا دی۔
ہبوعیل کلب نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے سخت بیان میں کہا: “میچ سے قبل ہونے والی ابتدائی بات چیت سے ہی ایسا لگ رہا تھا کہ پولیس کسی کھیل کے مقابلے نہیں، بلکہ ایک جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔”اس نے مزید کہا: سب نے دل دہلا دینے والی ویڈیوز دیکھی ہیں، بچے گھوڑوں کے سموں تلے روندے جا رہے ہیں، اور پولیس اہلکار بغیر کسی تمیز کے شائقین کو مار رہے ہیں۔کلب نے پولیس پر کھیلوں پر قبضہ جمانے کا الزام لگاتے ہوئے فٹبال حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتِ حال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کریں۔
