نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) عام آدمی پارٹی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو یہاں سے ہٹا کر لداخ بھیجے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سکسینہ بڑے بے آبرو ہو کر لداخ گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے جمعہ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ دہلی سے بڑے بے آبرو ہو کر لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ لداخ چلے گئے ۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر بنتے ہی انہوں نے آبکاری معاملے میں فرضی جانچ کرائی، لیکن ان کی ساری کی ساری نوٹنکی عدالت میں بے نقاب ہو گئی۔ دہلی والوں کی بددعائیں لیفٹیننٹ گورنر کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی اور انہیں اپنے اعمال کی سزا ضرور ملے گی۔ بھاردواج نے کہا کہ سکسینہ کو سزا ملنا طے تھا۔ جن غریبوں کو انہوں نے ستایا ہے ، جن کی موت کا یہ سبب بنے ہیں اور جن لوگوں کو انہوں نے ملازمت سے نکالا ہے ، ان کی اور ان کے کنبے کی بددعائیں ہمیشہ ان کا پیچھا کریں گی۔ انہیں ان کے اعمال کی سزا خدا ضرور دے گا، اس جنم میں یا اگلے جنم میں، یہ ایشور طے کرے گا۔ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلیوں کے گروپ کے چیف وہِپ سنجیو جھا نے کہا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ونے سکسینہ کی میعاد آخرکار ختم ہو گئی۔ فن لینڈ میں اساتذہ کی تربیت روکنا، محلہ کلینکوں پر فرضی الزامات لگا کر جانچ بٹھانا، ’دہلی کی یوگ شالا‘ اسکیم روکنا، ’فرشتے دہلی کے ‘ اسکیم کے فنڈ پر تنازع کھڑا کرنا اور پانی کے بلوں کی ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم کو روکنا، یہ سب اسی دور میں ہوا۔ مسٹر جھا نے کہا کہ سکسینہ کے دورِ کار میں ہی اسپتالوں کے ڈیٹا انٹری آپریٹروں اور 10,000 بس مارشلوں کی نوکریاں چلی گئیں۔ یاد رہے کہ مرزا غالبؔ کا مشہور شعر ہے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچہ سے ہم نکلے
جھوٹے شراب گھوٹالے کی کہانی گھڑ کر پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو بدنام کرنے کی سیاست بھی اسی دور میں کی گئی۔ کیجریوال حکومت کے دوران کچرے کے پہاڑ، جمنا کی صفائی اور آلودگی پر روزانہ نصیحت دینے والے نائب گورنر پچھلے ایک سال میں تقریباً غائب ہی رہے ۔ دہلی شاید انہیں اپنی تاریخ کے بدترین ایل جی کے طور پر یاد رکھے گی۔