بکرے ، مچھلی ، میوہ جات اور ترکاریوں کے فضلے سے ایندھن کی تیاری

   

سی این جی کے ذریعہ بسوں کو چلانے کے اقدامات ، نئی تحقیق سے حکومت کو بڑی راحت
حیدرآباد۔24ستمبر(سیاست نیوز) حکومت آئندہ چند ماہ کے دوران زیر زمین ایندھن کے ذخائر کے بجائے بکرے‘ مچھلی ‘میوہ جات اور ترکاریوں کے فضلہ سے سی این جی تیا رکرتے ہوئے بسوں کو چلائے گی۔ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر نتن گڈکری نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے دوران مہاراشٹرا بالخصوص ممبئی میں اشیائے خورد و نوش کے کچہرے سے تیار کئے جانے والے سی این جی کے ذریعہ بسوں کو چلانے کے اقدامات کو حقیقی شکل دی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ لدھیانہ میں کامیاب تجربہ کے بعد مہاراشٹرا میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس تجربہ کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ حکومت سی این جی کے ذخائر کو استعمال کرنے کے بجائے سی این جی کی تیاری کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنارہی ہے۔ شہری علاقوں میں چلائی جانے والی بسوں کو سی این جی میں تبدیل کرنے کیلئے اب تک حکومت کی جانب سے قدرتی گیاس کا استعمال کیا جا رہا تھا لیکن قدرتی گیاس کی نکاسی اور اس کے استعمال پر آنے والی لاگت کے علاوہ قدرتی ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنانے کی کوشش کے دوران کی جانے والی اس تحقیق نے بڑی راحت کا سامان مہیا کروایا ہے۔مسٹر نتن گڈکری نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران مہاراشٹرا میں اس طریقہ کار کو متعارف کروایاجائے گا ۔ انہوں نے اس طریقہ کار کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی نگرانی میں کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مٹن ‘ مچھلی ‘ ترکاری اور میوہ جات کے کچہرے سے جو گیاس تیار کی جا سکتی ہے اس سے میتھنال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو علحدہ کرتے ہوئے استعمال کیا جاسکتا ہے جو کہ حکومت اور ماحولیات کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں سی این جی کے استعمال کے فروغ کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے علاوہ حکومت پر قدرتی گیاس کی نکاسی کے سبب عائد ہونے والے بوجھ میں بھی کمی واقع ہوگی۔حکومت کی جانب سے ملک کی کئی ریاستوں میں سی این جی کے ذریعہ چلائی جانے والی بسوں اور دیگر موٹر گاڑیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ جلد حکومت کی جانب سے ملک کے دیگر شہروں میں بھی سی این جی بسوں کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی روشناس کروائی جائے گی اور اس کے لئے سی این جی کی تیاری عمل میں لائی جائے گی۔