کابینہ کے فیصلہ کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ نروتم مشرا کا اعلان
بھوپال : مدھیہ پردیش کی کابینہ نے منگل کے روز فیصلہ کیا کہ 1984 میں بھوپال گیس سانحہ میں جو خواتین بیوہ ہوگئی تھیں، انہیں ہر ماہ ایک ہزار روپئے کی اضافی پنشن ادا کی جائے گی۔ وزیرداخلہ نروتم مشرا نے یہ بات بتائی۔ نروتم مشرا جو حکومت کے ترجمان بھی ہیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسی خواتین جن کے شوہر بھوپال گیس سانحہ میں ہلاک ہوچکے ہیں اور جو آج بڑی مشکل سے گزر بسر کررہی ہیں، انہیں سوشیل سیکوریٹی پنشن کے علاوہ ایک ہزار روپئے کی اضافی پنشن بھی ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ محکمہ فینانس نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود بیواؤں کو اضافی پنشن کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے کمل ناتھ قیادت والی سابقہ حکومت نے 2019ء میں بیواؤں کیلئے اضافی پنشن بند کردی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قبل ازیں 2013ء میں بی جے پی حکومت نے اس اضافی پنشن کا آغاز کیا تھا اور اب موجودہ حکومت نے اس کا احیاء کیا ہے۔ اس موقع پر بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن نامی این جی او سے مربوط رچنا ڈھنگرا نے حکومت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران یوں تو کئی اعلانات کئے گئے لیکن بیواؤں کے بینک کھاتے میں ایک پیسہ بھی نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھوپال گیس سانحہ کی بیواؤں کو ڈسمبر 2019ء سے ان کی پنشن نہیں ملی ہے لہٰذا ان کے بقایاجات کو بھی فوری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گیس ریلیف ڈپارٹمنٹ کی پالیسی میں کوئی شفافیت نہیں ہے جس کی وجہ یہی ہیکہ بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کے دکھوں اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کیلئے تال میل نہیں ہے۔ 1984ء میں 2 اور 3 ڈسمبر کی درمیانی رات کو یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹیڈ کے پلانٹ سے زہریلی گیس کے اخراج سے زائد از 15000 افراد ہلاک ہوگئے تھے جو صرف ایک ماہ قبل یعنی 31 اکٹوبر 1984ء کو اس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد رونما ہونے والا ایک بڑا سانحہ تھا۔