خودکشی نوٹ برآمد، ہراسانی کی وجہ انتہائی اقدام کی شکایت، حقائق منظر عام پر لانے پولیس کا تیقن
بھینسہ۔ 13 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی انگلش بوائز اسکول و جونیرکالج بھینسہ میں انٹرمیڈیٹ سال دوم ایم پی سی کے طالب علم محمد فرحان نواز کی ٹمریز کے نماز گاہ ہال میں نعش مشتبہ حالت میں لٹکی ہوئی پائی گئی جس کی وجہ سے بھینسہ شہر اور ٹمریز کے طلبہ میں تشویش اور مایوسی کی لہر پیدا ہوگئی۔ تفصیلات کے بموجب بھینسہ کے زین العابدین گلی کے متوطن محمد عبدالحفیظ مرحوم کے تیسرے فرزند محمد فرحان نواز بعمر 17 سالہ کی نعش ٹمریز نماز گاہ ہال میں مشتبہ حالت میں لٹکی ہوئی پائی گئی جس کی اطلاع پاکر ٹاؤن سرکل انسپکٹر پراوین کمار پولیس جمعیت کے ہمراہ مقام واقعہ پہنچ کر نعش کا پنچنامہ کرنے پر خودکشی نوٹ برآمد ہوا جس میں چند طلبہ کی جانب سے کچھ یوم سے متوفی کو ہراساں کرنے اور اس ضمن میں مدرس سے شکایت کرنے پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی صورت میں انتہائی اقدام کرنے کا ذکر ہے اس واقعہ پر ٹمریز کے ضلعی عہدیداران ڈی ایم ڈبلیو سراونتی ، متحدہ ضلع آر ایل سی محمد سلیم الدین ، ویجلنس عہدیدار روی چندر (عادل آباد) ، محمد ضیا (نظام آباد) و دیگر نے ٹمریز کا دورہ کیا نعش کا پوسٹ مارٹم گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل میں کیا گیا بعد پوسٹ مارٹم میت کو ورثہ کے حوالے کردیا گیا میت کے دیدار کے لیے مقامی رکن اسمبلی جی وٹھل ریڈی نے آبائی مکان واقع زین العابدین گلی پہنچ کر افراد خاندان کو پْرسہ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ امداد کا تیقن دیا افراد خاندان کی شکایت پر بھینسہ پولیس ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تمام زاویوں اور باریک بینی سے تحقیقات کا آغاز کردیا اور ٹاؤن سرکل انسپکٹر پراوین کمار نے ہر ممکنہ ٹھوس کارروائی کرنے اور حقائق کو منظر عام پر لانے کا تیقن دیا اس واقعہ کے بعد شہر کے مسلمانوں بالخصوص اولیائے طلبہ اسے ٹمریز انتظامیہ اور پرنسپل کی مجرمانہ لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصہ ظاہر کیا جبکہ بعض افراد نے طالب علم کے انتہائی اقدام پر مختلف شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا۔ مرحوم طالب علم کی نماز جنازہ بعد نماز عصر مسجد مومنان میں ادا کی گئی اور تدفین آبائی قبرستان سلیمان ٹیکڑی میں عمل میں آئی۔