بھینسہ : موضع نگوا عصمت ریزی واقعہ کے خاطی کو پولیس نے عدالتی تحویل میں پیش کرنے سے قبل بھینسہ پولیس اسٹیشن میں میڈیا نمائندوں کے روبرو پیش کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی کرن کھرے بتایا کہ 26 جولائی منگل کو موضع نگوا کی ایس ٹی طبقے کی ایک خاتون نے اپنی جماعت چہارم میں زیر تعلیم نو سالہ بیٹی کے ساتھ عصمت ریزی ہونے کی کوبیر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی جس پر کوبیر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی اور بھینسہ رورل سرکل انسپکٹر چندر شیکھر کے علاوہ کوبیر سب انسپکٹر محمد شریف نے فوراً تحقیقات کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لایا عصمت ریزی کا واقعہ 23 جولائی ہفتہ کے روز شام کے وقت پیش آیا جب متاثرہ لڑکی کو کھیلنے کے دوران اسی موضع نگوا کا 70 سالہ بی وٹھل نامی معمر شخص اپنے مویشیوں کے شیڈ میں لے جاکر درندگی اور ہوس کا شکار بنایا لیکن متاثرہ لڑکی ڈر و خوف کی وجہ سے خاموش تھی لیکن 26 جولائی بروز منگل لڑکی کی طبعیت خراب ہونے پر اسکی ماں تفصیلات دریافت کی جس پر متاثرہ لڑکی نے اپنے اوپر ہوئے ظلم و عصمت ریزی کی داستان سنائی پولیس متاثرہ لڑکی کو دواخانہ منتقل کرتے ہوئے مکمل جانچ کی گئی اور طبی امداد بھی فراہم کی گئی اور متاثرہ لڑکی کی کونسلنگ کرتے ہوئے ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے ضلع کلکٹر کو تمام حالات سے واقف کرواتے ہوئے اس جانب متوجہ کروایا گیا اور اس واقعہ میں ملوث خاطی بی وٹھل 70 سالہ کو چوبیس گھنٹے کے اندر گرفتار کرتے ہوئے کرائم نمبر 62/2022 کے تحت ایس سی ایس ٹی مظالم ایکٹ(اٹراسٹی) ، پوکسو ایکٹ کے علاوہ u/sec 376 (AB) ipc اور دیگر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کی گئی ۔ اس پریس کانفرنس میں بھینسہ رورل سرکل انسپکٹر چندرشیکھر اور کوبیر سب انسپکٹر محمد شریف اور دیگر پولیس عہدیداران موجود تھے۔