کئی سیاسی جماعتوں نے درخواستیں داخل کیں، ریاست کے جمع کردہ ڈیٹا پر غور کا امکان
نئی دہلی ۔7؍ستمبر( ایجنسیز)سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن کے ذریعہ بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف سیاسی پارٹیوں سمیت دیگر کے ذریعہ داخل کردہ عرضیوں پر پیر 8 ستمبر کو سماعت کرے گا۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ الیکشن کمیشن کے ریمارکس پر راشٹریہ جنتا دل، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور دیگردرخواست گذاروں کے جواب پر غور و خوض کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل 7.24 کروڑ ووٹرس میں سے 99.5 فیصد نے ایس آئی آر کے عمل میں اپنی اہلیت کے دستاویز داخل کر دیے ہیں۔سپریم کورٹ نے 22 اگست سے این جی او، کارکنان اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ داخل کی گئی درخواستوں سمیت کئی عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے۔ بنچ نے اس وقت سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ بہار میں ایس آئی آر عمل کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے چھوٹ گئے ووٹرس کو دعویٰ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آن لائن موڈ سے بھی درخواست دینے کا آپشن دے۔سپریم کورٹ نے یکم ستمبر کو سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ وقت کی حد میں اضافے کیلئے دائر کچھ عرضیوں پر سماعت کی تھی۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے بنچ کو بتایا کہ ایس آئی آر عمل کے تحت بہار میں تیار کیے گئے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں دعووں، اعتراضات اور اصلاح کیلئے درخواست یکم ستمبر کے بعد بھی دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ووٹر لسٹ کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد ان پر غور و خوض کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں دعوے اور اعتراضات ہر ایک حلقۂ اسمبلی میں فارم بھرنے کی آخری تاریخ تک داخل کیے جا سکتے ہیں۔واضح ہو کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کیلئے یکم ستمبر کی آخری تاریخ کو آگے بڑھانے کی مخالفت کی تھی۔ کمیشن نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے 22 اگست کے حکم کے بعد 30 اگست تک صرف 22723 دعوے شامل کرنے کے لیے دائر کیے گئے تھے اور 134738 اعتراضات باہر کرنے کے لیے داخل کی گئی تھیں۔ بہار ایس آئی آر کے لیے الیکشن کمیشن کے 24 جون کے شیڈول کے مطابق ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ یکم ستمبر کو ختم ہوگئی اور حتمی ووٹر لسٹ 30 ستمبر کو شائع کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں سے الیکشن کمیشن کے ریمارکس پر اپنا ردعمل دینے کو کہا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قانونی معاون متعلقہ ضلعی ججوں کو ایک خفیہ رپورٹ پیش کریں گے اور ریاست کے جمع کردہ ڈیٹا پر 8 ستمبر کو غور کیا جائے گا۔