حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ ( شاہنواز بیگ کی رپورٹ ) سابق رکن پارلیمنٹ و تلنگانہ صدر جاگرتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ’’ دشمن چاہے لاکھ برا ہوئی ہوتا جو منظور خدا ہوتا ‘‘ جس کی مثال دہلی کی راوس ایونیو عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے درج کردہ مقدمہ کو خارج کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دی گئی ۔ جس پر کویتا نے عدالت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچائی کی جیت ہے ۔ جب سیاسی جماعتوں نے غیرمجاز طور پر انہیں شراب کے مقدمہ میں پھنسا کر انہیں تہاڑ جیل میں عرصہ دراز تک تکلیفیں پہنچائی اور انہی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہی کی طرح کسی اور کو تکلیفیں برداشت نہ کرنا پڑے ۔ کویتا نے کہا کہ تہاڑ کی جیل میں ایسے کئی قیدی ہے جنہیں اپنے افراد خاندان سے دور رکھا گیا اور معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے انہیں بیل تک نہیں حاصل ہورہی ہے ۔ کویتا نے آج اپنی رہائش گاہ بنجارہ ہلز میں نمائندہ سیاست سے خاص ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے افراد خاندان کو شدید ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑی ۔ انہوں نے اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جو اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے ۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے بھی ابتداء سے اس کیس کو سیاسی قرار دیا تھا ۔ کویتا نے مزید کہا کہ ان کی ہمت اور طاقت کے پیچھے ان کے شوہر کا نمایاں رول رہا ۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ میں ان کی نئی پارٹی کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل رہیں گے ۔ اسی طرح ہر مذہب کے لوگوں کا تحفظ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے مسلمانوں کے جذبات اور احساسات سے کھلواڑہ کیا جارہا ہے جس میں مذہبی مقامات مسمار کیا جارہا ہے یہ ناقابل برداشت ہے ۔ تلنگانہ جاگرتی کی جانب سے اس پر سخت مذمت کی جاتی ہے اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے مشہور شخصیتوں سے راست ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کے درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جائیگی ۔