بی آر ایس اور بی جے پی کے اٹوٹ بندھن کو تلنگانہ عوام سمجھ چکے ہیں: ریونت ریڈی

   

کانگریس کو شکست دینے خفیہ مفاہمت، تلنگانہ عوام نے تبدیلی کا فیصلہ کرلیا
حیدرآباد۔/6اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی اور بی آر ایس دونوں ایک ہیں۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کیلئے دونوں پارٹیوں نے مفاہمت کرلی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ مفاہمت کے تحت مرکزی حکومت کے سی آر خاندان کی بدعنوانی کے خلاف کارروائی سے گریز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اسٹیرنگ اڈانی اور بی آر ایس کا اسٹیرنگ اسد اویسی کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس سے ارکان اسمبلی مینم پلی ہنمنت راؤ اور ریکھانائیک پہلے ہی کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ رنگا اور بلہ کی طرح ہیں جو ریاست کے مختلف علاوں کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ نے کانگریس قائدین کو کمزور قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کانگریس کمزور ہے تو کے سی آر باہوبلی ہیں۔ بی آر ایس قائدین کو آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھ لینا چاہیئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس پارٹی نے ہریش راؤ کو اسمبلی کی رکنیت کے بغیر ہی کابینہ میں شامل کیا تھا۔ ربرکی چپل کے ساتھ ہریش راؤ ریاستی وزیر بن گئے لیکن آج کانگریس پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کانگریس کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سدی پیٹ، سرسلہ اور گجویل کی طرح دیگر علاقوں کی ترقی کے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کی ترجیح الیکشن ، ووٹ اور سیٹ ہے جبکہ کانگریس پارٹی عوام کی بھلائی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر پر1200 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ400 کروڑ کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی چھ ضمانتوں پر عوام کو اعتماد ہے اور نئے سال میں تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت رہے گی۔