بی آر ایس حکومت میں تلنگانہ کی کئی شعبہ جات میں نمایاں ترقی : کے ٹی آر

   

آئی ٹی ایکسپورٹ 2.72 لاکھ اور 10 لاکھ ملازمتیں، کولمبیا بزنس اسکول کی سالانہ کانفرنس سے بی آر ایس لیڈر کا خطاب
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تمام شعبہ جات میں صنعتوں کو نئی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں آرٹیفیشل انٹلی جنس اہم رول ادا کریگا۔ کے ٹی آر نے کولمبیا بزنس اسکول نیویارک میں 21 ویں سالانہ بزنس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کے ٹی آر کو کانفرنس کیلئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت لائیف سائنسس، فن ٹیک، کلائیمیٹ ٹیک، مینوفیکچرنگ و اگریکچرل ٹیکنالوجی جیسے شعبہ جات میں مستقبل میں تیزی سے ترقی کی گنجائش ہے۔ کے ٹی آر نے تیز رفتار معاشی ترقی کیلئے تلنگانہ کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ریاست میں اسٹارٹ اپس کی کامیابی نے اہم رول ادا کیا ہے۔ طلبہ، انٹرپرینرس اور انویسٹرس سے خطاب میں کے ٹی آر نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں تلنگانہ نے تیز رفتار ترقی کے مراحل طے کئے ۔ طویل عوامی جدوجہد کے ذریعہ نئی ریاست حاصل کی گئی اور بی آر ایس حکومت نے بہتر حکمرانی، معاشی ترقی و نئی اختراع کے ذریعہ ریاست کو 10 برسوں میں ملک کی مثالی ریاست کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے نہ صرف ادارے قائم کئے بلکہ انفرااسٹرکچر سہولتوں کے علاوہ سرمایہ کاروں میں اعتماد کو بحال کیا۔ ترقی کیلئے مواقع کا انتظار کئے بغیر تلنگانہ حکومت نے خود ترقی کو یقینی بنایا ۔ 2027 میں ہندوستان کی آزادی کے 80 سال مکمل ہوجائیں گے جبکہ تلنگانہ نے صرف ایک دہے میں غیر معمولی معاشی ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی کامیابی کا انحصار قیادت اور اس کے ویژن پر ہوتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہندوستان میں وفاقی نظام ہے اور ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ریاستوں کی ترقی پر ہے۔ ریاستوں کو ترقی میں مسابقت کے ذریعہ مجموعی ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ 2014 میں تلنگانہ سے آئی ٹی ایکسپورٹ 57,000 کروڑ تھا جو 2023 میں بڑھ کر 2.72 لاکھ کروڑ ہوچکا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں روزگار میں 3.23 لاکھ سے تقریباً 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ایک عالمی ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر شناخت بناچکا ہے۔ حیدرآباد میں کئی عالمی اداروں نے کیمپس قائم کئے ہیں جن میں امیزان، گوگل، ایپل، میٹا پلیٹ فارم، سیلز کورس، اوبیر اور مائیکرون ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ہب، وی ہب، ٹی ورکس اور تلنگانہ اکیڈیمی پر اسکلس اینڈ نالج کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ لائیف سائنسس میں تلنگانہ کی ترقی پر کے ٹی آر نے کہا کہ دنیا کا ایک تہائی ویکسین اور ہندوستان کا 40 فیصد بلک ڈرگس حیدرآباد میں تیار ہوتا ہے ۔ بائیوٹیک و ڈیجیٹل ڈرگ ڈسکوری میں حیدرآباد عالمی مرکز بن چکا ہے۔ زرعی شعبہ کی ترقی میں کالیشورم پراجکٹ نے اہم رول ادا کیا جس کے ذریعہ تقریباً 45 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کیا جارہا ہے۔ ملک کی ترقی میں ہندوستانی تارکین وطن کے رول کا ذکر کرکے کے ٹی آر نے کہا کہ ہندوستان نے ایک دہے میں جو کامیابی حاصل کی امریکہ اور چین جیسے ممالک کو ترقی کیلئے تین دہے درکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کیلئے صرف نظریات کے اعلان کے بجائے ان پر عمل کی ضرورت ہے۔ 1/F/K