کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان کو بعض دشواریاں، موسی ریور پراجکٹ پر اپوزیشن کا گمراہ کن پروپگنڈہ
حیدرآباد 24 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت میں اقتدار کے بیجا استعمال کے ذمہ داروں کے خلاف عنقریب ریڈ بُک کھول کر کارروائی کی جائے گی۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت کی تمام بے قاعدگیاں اور اس میں ملوث افراد کی تفصیلات ریڈ بُک میں درج ہیں۔ 10 سالہ اقتدار میں کے سی آر نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ دیا اور انتخابات سے عین قبل دلت بندھو اور رعیتو بندھو اسکیمات کا اعلان کیا گیا تاکہ کسانوں اور دلتوں کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں پر پولیس کے ذریعہ مظالم ڈھائے گئے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ اُس وقت بی آر ایس قائدین نے کسانوں سے ملاقات کیوں نہیں کی۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس نے بی جے پی کی مرکزی حکومت سے مخالف کسان قوانین کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے ٹی آر کو چیف منسٹر کے بارے میں اظہار خیال کا کوئی حق نہیں ہے۔ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے بارے میں بی آر ایس اور بی جے پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری کے لئے 140 کروڑ جاری کئے گئے۔ اس کے علاوہ پراجکٹ پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن پارٹیوں کو حقائق معلوم کرنے کے بعد بیان بازی کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں کسی بھی ریاست میں پہلی مرتبہ اقتدار کے 10 ماہ میں انتخابی وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کا سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ جمہوری انداز میں چلایا جاتا ہے جبکہ بی جے پی اور بی آر ایس سوشل میڈیا کے ذریعہ غیر جمہوری اور غیر قانونی انداز میں کام کررہے ہیں۔ بی آر ایس سوشل میڈیا پر کروڑہا روپئے خرچ کررہی ہے تاکہ حکومت کے خلاف مہم چلائی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ موسی ریور پراجکٹ اور حیڈرا کے بارے میں اپوزیشن جماعتیں گمراہ کن پروپگنڈہ کررہی ہیں تاکہ عوام کو مشتعل کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام کے ٹی آر کی مہم پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ 10 برسوں میں بی آر ایس نے 8 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد کی ترقی کے خواہشمند موسی ریور پراجکٹ کی مخالفت نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پراجکٹ کے تمام متاثرین کی بازآبادکاری حکومت کی اوّلین ترجیح رہے گی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ بی آر ایس نے 10 برسوں میں 70 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے تھے جبکہ کانگریس نے 10 ماہ میں 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ صدر پردیش کانگریس نے کہاکہ جگتیال میں جیون ریڈی کے حامی کا قتل ذاتی مخاصمت کا نتیجہ ہے۔ جیون ریڈی اِسے بی آر ایس قائدین کی حوصلہ افزائی تصور کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ رکن اسمبلی سنجے کی پارٹی میں شمولیت کی جیون ریڈی نے مخالفت کی تھی۔ اُنھوں نے اعتراف کیاکہ بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی کو بعض مسائل کا سامنا ہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس اور بی جے پی پر کانگریس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا اور کہاکہ حکومت کی مدد کے لئے بی آر ایس ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے مسئلہ پر نلگنڈہ ضلع کے ارکان اسمبلی کے ساتھ عنقریب اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ریاستی وزیر اتم کمار ریڈی نے بھی پراجکٹ کی تائید کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی وزیر سرینواس ریڈی نے سیاسی بم پھٹنے کی بات کی ہے اور ہر کسی کو اُس کا انتظار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہاکہ جیون ریڈی کے معاملہ میں ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کو ذمہ داری دی گئی ہے اور اُن کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ 1