بی آر ایس کو پارلیمانی انتخابات تک سنبھلنے کا موقع ملنا بھی مشکل

   

کانگریس کی حکمت عملی ، بی آر ایس ، بی جے پی کو روک لگانے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔6۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) کے چندرشیکھر راؤ پارٹی کی ساکھ متاثر ہونے سے بچانے کے لئے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیں گے اور یہ پیغام دینے کی کوشش کریں گے کہ ان کی پارٹی میں اب بھی طاقت موجود ہے۔بی آر ایس کو تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بی آر ایس کا مظاہرہ سابق کی طرح نہیں ہوگا بلکہ کانگریس ریاست میں زیادہ سے زیادہ لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ تلنگانہ میں فی الحال بی آر ایس کے 9 ‘ بی جے پی کے 4‘ کانگریس کے 3 اور ایک مجلس کے رکن پارلیمنٹ موجود ہیں لیکن اب جبکہ ماہ فروری میں عام انتخابات کے لئے اعلامیہ متوقع ہے تو کہا جا رہاہے کہ بھارت راشٹرسمیتی کو آئندہ 3ماہ کے دوران سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی پارٹی کو مضبوط امیدوار ملیں گے جس کے نتیجہ میں بی آر ایس کا پارلیمانی انتخابات میں بھی مظاہرہ بہتر نہیں ہوپائے گا بلکہ کانگریس 15 نشستوں پر کامیابی کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں پر اگر متحدہ اضلاع میں کانگریس کو حاصل ہونے والی کامیابی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہورہی ہے کہ 12تا15نشستوں پر کانگریس اپنے اراکین لوک سبھا کی کامیابی کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کرسکتی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 1یا2 نشستوں تک محدود ہوسکتی ہے۔اسی طرح بی آر ایس بھی ایک یا دو نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے ۔ بی آر ایس پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی قومی سیاست میں بڑھنے والی دلچسپی کے نتیجہ میں یہ کہا جا رہاہے کہ پارٹی سربراہ ریاستی سیاست سے دوری اختیار کرلیں گے اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے قومی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرسکتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں اقتدار سے محرومی کے بعد بھارت راشٹرسمیتی کا قومی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے جبکہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ مرکز میں تشکیل حکومت میں علاقائی سیاسی جماعتوں کا اہم کردا ر ہوگا لیکن اب جبکہ ان کی حکومت ہی نہیں رہی تو وہ مرکز میں اب کوئی کردار ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔