کئی قائدین اور کارکن گرفتار ۔ عدالت کی اجازت سے احتجاج کیا جائے گا ۔ کے ٹی آر کا اعلان
حیدرآباد۔17جنوری (سیاست نیوز) سکندرآباد بلدیہ کے قیام اور سکندرآباد کے وجود کیلئے بی آر ایس کی جدوجہد کے طو ر پر معلنہ احتجاجی ریالی کو پولیس نے ناکام بنادیا اور احتجاج میں شامل کئی کارکنوں اور قائدین کو حراست میں لے کر مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کردیا ۔ حکومت سے بلدیہ حیدرآباد کی تنظیم جدید میں سکندرآباد کے نام کو حذف نہ کرنے اور سکندرآباد کی علحدہ بلدیہ کے قیام کا مطالبہ کرکے سابق وزیر ٹی سرینواس یادو نے 17 جنوری کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے احتجاجی ریالی کا اعلان کیا تھا جسے پولیس نے شروع ہونے سے قبل ہی طاقت کا استعمال کرکے ناکام بنادیا۔ اس ریالی کے آغاز سے قبل پولیس کی بھاری جمیعت نے ریلوے اسٹیشن کے قریب دکانوں و ہوٹل کو بند کروادیا جس پر بی آر ایس قائدین نے احتجاج کیا ۔کے ٹی راما راؤ نے جو اس احتجاج میں شرکت کرنے والے تھے بتایا کہ حکومت پولیس کے ذریعہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت کے من مانی فیصلوں کے خلاف عوام جو آواز اٹھا رہے ہیں انہیں کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے جو غیر دستوری ہے۔ سابق وزیر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ جلد بی آر ایس سکندرآبا د کی تہذیب اور تمدن کی برقراری کے جدوجہد میں شدت پیدا کرنے عدالت سے اجازت حاصل کرکے احتجاج منظم کریگی۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر تنقید کی اور کہا کہ چیف منسٹر نے 2برسوں میں ناموں کی تبدیلی کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دیا اور نہ ہی عوام کو اب کوئی امیدباقی رہی کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں گے۔سکندرآباد میں احتجاج کو ناکام بنانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹی سرینواس یادو نے بتایا کہ محکمہ پولیس سے اجاز ت طلب نہ کئے جانے کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ بی آ را یس نے احتجاج کیلئے پولیس کو مکتوب روانہ کیا تھا اور 5 دن تک جواب نہ دے کر پولیس نے گذشتہ شب 10:45 کو اجازت نہ دینے کی اطلاع دی کیونکہ رات دیر گئے مطلع کئے جانے کے بعد عدالت سے رجوع ہونے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ سرینواس یادو کے اس احتجاج میں بی آر ایس قائدین و کارکنوں و بڑی تعداد میں عوام سیاہ کھنڈوے ڈالے میں شامل ہونے پہنچے تھے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔3