کم از کم پچاس نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے سربراہ پارٹی کا قائدین پر زور
حیدرآباد۔13جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ بھارت راشٹرسمیتی کی کم ہورہی مقبولیت کے سبب مشکل دور سے گذررہے ہیں اور اپنے پارٹی قائدین کو کم از کم 50نشستوں پر شدت سے مقابلہ کے لئے تاکید کر تے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ضلع محبوب نگر ‘ رنگاریڈی ‘ جی ایچ ایم سی حدود‘ کھمم اور نلگنڈہ کے کم از کم ایسی 50نشستوں کی نشاندہی کی جائے جہاں بھارت راشٹرسمیتی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ عوام کے درمیان کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے پارٹی قائدین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ہی شکست دینے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ ہے لیکن حقیقت میں چیف منسٹر کے سی آر اپنے قریبی رفقاء سے ان میں موجود خوف کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈاکٹر کے کیشو راؤ کے علاوہ ویمولہ پرشانت ریڈی اور دیگر سرکردہ قائدین سے بات چیت کے دوران کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست میں تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے بھارت راشٹرسمیتی کو 50 نشستوں پر کامیابی کانشانہ مقرر کرنا ہوگا جو کہ مذکورہ اضلاع سے ہوں۔ انہو ںنے ان قائدین کے ساتھ کی گئی بات چیت کے دوران اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران ان حلقہ جات اسمبلی میں متعلقہ رکن اسمبلی کی کارکردگی سے عوام مایوس ہیں اور ان کی اس مایوسی کے نتیجہ میں بی آر ایس امیدواروں کی شکست کا خدشہ ہے۔ سربراہ بی آر ایس نے اس سلسلہ میں اپنے فرزند و ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ سے بھی بات چیت کرتے ہوئے 50نشستوں پر امیدواروں کی تبدیلی اور ان کی جگہ نئے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے متعلق تبادلہ خیال کیاہے اورانہیں بھی ان اضلاع میں جہاں پارٹی کا موقف کمزور ہے ان اضلاع سے 50 نشستوں پر کامیابی یقینی بنانے کی حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔بھارت راشٹرسمیتی نے کھمم کے علاوہ نلگنڈہ ‘ محبوب نگر اور جی ایچ ایم سی حدود میں موجودہ ارکان اسمبلی کو بھی تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ پارٹی کے سرکردہ قائد نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں جن 50حلقہ جات اسمبلی کی نشاندہی کی گئی ہے ان حلقہ جات اسمبلی میں پارٹی کو عوامی اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہے اور مختصر مدت میں عوام کا دوبارہ اعتماد حاصل ہونا انتہائی دشوار ہے اسی لئے پارٹی کی جانب سے فوری طور پر تبدیلی کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔چیف منسٹر کے سی آر پارٹی قائدین کی ناراضگی سے محفوظ رہتے ہوئے آئندہ اسمبلی انتخابات میں عوام کے درمیان پہنچنے کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اوراسی لئے ماہ جولائی کے اوائل یا دوسرے ہفتہ میں 100 امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کا اعلان کرنے کے باوجود اب تک پارٹی قیادت خاموش ہے اور امیدواروں کے اعلان کے ذریعہ کسی بھی طرح کی بغاوت کو فروغ پانے سے روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو موصول ہونے والی رپورٹس میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاست میں کانگریس تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور کانگریس کو حاصل ہونے والی مقبولیت کی بنیادی وجہ ارکان اسمبلی کی عدم کارکردگی ہے جس کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ اگر پارٹی کی جانب سے موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ دوسری سیاسی جماعتوں کا رخ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں اسی لئے پارٹی اس سلسلہ میں کھل کر ابھی کچھ بھی کہنے کے لئے آمادہ نہیں ہے ۔م