بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو انکم ٹیکس کی نوٹس

   

تین دن تک مسلسل دھاوئوں کے بعد دستاویزات پر وضاحت طلبی

حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے بی آر ایس کے 3 قائدین کو نوٹس جاری کی ہے۔ انکم ٹیکس نے پی شیکھر ریڈی اور ایم جناردھن ریڈی کے مکانات و دفاتر پر 84 گھنٹوں تک مسلسل تلاشی لی تھی۔ تلاشی کے دوران ضبط کئے گئے بعض دستاویزات اور آن لائین معاملات کی بنیاد پر انکم ٹیکس نے پی شیکھر ریڈی کو نوٹس جاری کی ہے۔ دستاویزات سے متعلق مزید تفصیلات کے ساتھ حیدرآباد میں انکم ٹیکس دفتر رجوع ہونے کی ہدایت دی گئی۔ بتایاجاتا ہے کہ علاوہ جناردھن ریڈی اور رکن پارلیمنٹ کے پربھاکر ریڈی کو بھی نوٹس جاری کی گئی۔ اسی دوران رکن پارلیمنٹ پربھاکر ریڈی آج انکم ٹیکس عہدیداروں کے روبرو پیش ہوئے۔ ایم جناردھن ریڈی نے پیش ہونے کے لیے مہلت مانگی ہے۔ رکن اسمبلی پی شیکھر ریڈی کو انکم ٹیکس حکام نے جمعرات کو حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ چند دن سے انکم ٹیکس دھاوئوں کے نتیجہ میں بی آر ایس قائدین میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے نتیجہ میں قومی تحقیقاتی ایجنسیاں تلنگانہ میں سرگرم ہوچکی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ اور دو ارکان اسمبلی کے علاوہ ایک سینئر لیڈر کے مکانات اور دفاتر پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی 50 ٹیموں نے ایک ہی وقت میں کارروائی کی۔ میدک کے رکن پارلیمنٹ کے پربھاکر ریڈی، بھونگیر کے رکن اسمبلی پی شیکھر ریڈی، ناگرکرنول کے رکن اسمبلی ایم جناردھن ریڈی کے علاوہ بی آر ایس مشیرآباد اسمبلی حلقہ کے قائد کے مادھو کے مکانات اور دفاتر پر دھاوے کئے گئے۔ کے مادھو بی آر ایس میں شمولیت سے قبل بی جے پی میں رہ چکے ہیں۔ ایک ہی وقت رکن پارلیمنٹ اور تین ارکان اسمبلی کے خلاف انکم ٹیکس کارروائیوں سے برسر اقتدار پارٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ر