بی آر ایس کے قدآور قائدین کی کانگریس اور بی جے پی شمولیت جاری

   

کے کونپا کانگریس اور جی نگیش بی جے پی میں شامل، عادل آباد میں کانگریس اور بی جے پی میں ٹکر

نرمل ۔ 15 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) متحدہ ضلع عادل آباد بالخصوص پارلیمانی حلقہ عادل آباد سے بی آر ایس کے دو قد آور قائدین نے پارٹی سے مستعفی ہوکر علیحدہ علیحدہ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی جس کی وجہ بی آر ایس پارٹی کو بہت بڑا جھٹکہ لگا۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری ریاست میں بی آر ایس کا صفایا ہو چلا ہے۔ متحدہ ضلع عادل آباد سے سرپور کاغذ نگر کے سابق رکن اسمبلی کے کونپا نے بی آر ایس چھوڑ کر آج ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی جبکہ بی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ جی نگیش نے بی آر ایس سے استعفی دیتے ہوئے دلی میں بی جے پی کے اعلیٰ قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور انہیں لوک سبھا عادل آباد سے بی جے پی نے اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ موجودہ رکن پارلیمنٹ جو بی جے پی سے ہی منتخب ہوئے تھے انہیں ٹکٹ سے محروم کیا گیا جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر گشت ہے کہ موجودہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سوئم بابو راؤ انہیں قبل از وقت ٹکٹ سے محروم کئے جانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے کی تیاری شروع کردی ہے۔ پارلیمانی حلقہ عادل آباد کی عجیب و غریب صورتحال ہے۔ بڑی تیزی سے بی آر ایس پارٹی سے قائدین کا مستعفی ہونا اور کانگریس میں شامل ہونا اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس تلنگانہ کے سیاسی نقشہ پر بہت بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ تین ماہ کی کانگریس کی کارکردگی نے ریاست میں جو مقبولیت حاصل کرلی اس تناظر میں بڑی تیزی سے ریاست ہوکہ اضلاع سیاسی میں منظر کافی تبدیل ہوتا دکھائی دینے لگا ہے۔ پارلیمانی حلقہ عادل آباد سے بی جے پی کے امیدوار جی نگیش کا اعلان ہوچکا ہے۔ تاہم کانگریس اور بی آر ایس نے ابھی اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا جبکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس مضبوط امیدواروں کی تلاش میں تھی۔ اب پارٹی کی مقبولیت نے حالات کو اس قدر بدل دیا ہے کہ کانگریس کے ٹکٹ کے لئے امیدواروں کو سخت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف بی آر ایس سے کئی بڑے قائدین کی علیحدگی کے بعد سیاسی منظر لوک سبھا عادل آباد میں راست مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہوگا۔ تاہم کانگریس کے امیدوار کا سیاسی حلقوں میں بڑی بے چینی سے انتظار ہے۔